1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مجھے پاکستانی وکیل چاہئے، قصاب کا مطالبہ

ممبئی حملوں میں واحد زندہ بچ جانے والے مبینہ دہشت گرد اجمل قصاب نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں پاکستانی وکیل مہیا کیا جائے جو ان کے مقدمے کی پیروی کرے۔ اس سے قبل عدالت نے قصاب کی وکیل کو معطل کر دیا۔

default

اجمل قصاب نے عدالت سے مقدمے کی پیروی کے لئے پاکستانی وکیل مہیا کرنے کی درخواست کی

بدھ کے رو ز سب کی نگاہیں جج ایم ایل تہلیانی کی عدالت پر ٹکی تھیں جہاں عامر اجمل قصاب کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہونی تھی۔لیکن سب سے پہلی خبر یہ آئی کہ عدالت نے قصاب کو فراہم کردہ وکیل دفاع انجلی واگھمارے کو ہٹا دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ انجلی کوان کے غیرپےشہ ورانہ رویہ کی وجہ سے ہٹایا جارہا ہے ۔ واگھمارے پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں میں متاثرہ ایک شخص سری وردھن کار کا مقدمہ بھی لے رکھا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اب انجلی کو اس مقدمے سے جوڑے رکھنا درست نہیں ہوگا کیوں کہ ایک متاثر اور ایک ملزم کے مفادا ت ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔سرکاری وکیل اجول نکم نے بعد میں بتایا کہ قصاب نے اپنے مقدمے کی وکالت کے لئے کسی پاکستانی وکیل کو مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی عدالتی نظام کے تحت کسی بھی ملزم کو اپنے دفاع کے لئے وکیل مقرر کرنے کا پورا حق ہے۔اجول نکم نے بتایا کہ اگر پاکستان نے قصاب کے لئے کوئی وکیل بھیجا تو ٹھیک ہے ورنہ عدالت یہاں کے ہی کسی اچھے وکیل کے نام کا اعلان کردے گی جس کے بعد پرسوں سے اس مقدمے کی سماعت شروع ہوسکتی ہے۔اجول نکم نے تاہم کہا کہ بار کونسل آف انڈیا کے ضابطوں کے تحت کوئی بھی غیرملکی وکیل یہاں کسی ملزم کا براہ راست مقدمہ نہیں لڑسکتا ہے اس کے لئے اسے پہلے بارکونسل سے اجازت لینا ضروری ہے۔

دوسری طرف پولیس کے سابق سربراہ ایم ایل سنگھ کا کہنا ہے کہ قصاب کو غیرملکی یا اپنا وکیل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن کسی غیرملکی وکیل کو مقدمہ لڑنے کی اجازت دی جائے یا نہیں اس کا فیصلہ حکومت کو کرنا ہوگا۔ لیکن قصاب کو عدالت کی اجازت لے کر کسی بھی ملک کا وکیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

خیال رہے کہ انجلی واگھمارے نے جس دن قصاب کے معاملے کی وکالت کرنے کا اعلان کیا تھا اسی دن سے شیو سینا سمیت متعدد شدت پسند ہندو تنظیمیں ان کے خلاف میدان میں اترآئی تھیں۔ ان تنظیموں نے ان کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرے بھی کئے تھے جس کے بعد حکومت نے انہیں زیڈ یعنی اعلی زمرے کی سیکیورٹی فراہم کرائی تھی۔

ممبئی ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ستیش مان شنڈے نے قصاب کا مقدمہ نہیں لڑنے کے لئے شدت پسند تنظیموں کی طرف سے دباؤکی مذمت کرتے ہوئے کہا جس طرح سے قصاب کا مقدمہ نہ لڑنے کے لئے وکیولوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے ایسے میں انہیں لگتا ہے کہ اسے پاکستانی وکیل کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔

دریں اثناء وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ ممبئی حملوں میں ملوث ایک اور ملزم شاہد جمیل ریاض کو ایک یورپی ملک میں گرفتار کیا گیا ہے۔ شاہد جمیل ریاض نے ہی مبینہ طور پر ان حملوں کے لئے مالیات فراہم کرنے میں مدد کی تھی۔ ذرائع نے حالانکہ اس ملک کا نام نہیں بتایا تاہم کہا کہ ریاض کو اسی ہفتے بھارت لانے کی کوشش کی جائے گی۔