1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مجھے نہیں لگتا کے اس کی جان بخشی ہو جائے گی‘

پاکستان کی فوج نے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کر دی ہے، جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے ’بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ روابط‘ تھے۔

اس اعترافی ویڈیو میں لیاقت علی، جسے احسان اللہ احسان کے نام سے جانا جاتا ہے، بتاتا ہے،’’میں ٹی ٹی پی مہمند، ٹی ٹی پی سینٹرل ڈویژن اور جماعت الاحرار کا ترجمان رہ چکا ہوں۔ بحیثیت ترجمان میں نے نو سالوں میں تحریک طالبان پاکستان میں بہت کچھ ہوتے دیکھا ہے۔ انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ، خصوصی طور پر نوجوانوں کو اسلام کے نام پر اس تنظیم کا حصہ بننے پر آمادہ کیا۔‘‘ اس ویڈیو میں وہ مزید کہتا ہے،’’تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کو بھارت اور افغانستان کی مدد حاصل تھی۔ قیادت نے ٹی ٹی پی کے سپاہیوں کو پاکستان کی فوج کے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے جنگی محاذوں پر بھیجا اور خود محفوظ مقامات پر چھپ گئے۔‘‘

اس ویڈیو میں لیاقت علی کہتا ہے کہ  ایک خاص گروہ معصوم افراد کو گمراہ کرتا تھا، انہیں اغوا کرتا تھا اور ان سے تاوان وصول کرتا تھا۔ اسی گروہ نے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر حملے کیے ہیں، جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔‘‘

پاکستانی صحافی اور ٹی وی شو ’نیا پاکستان‘ کے اینکر طلعت حسین نے احسان اللہ احسان کی ویڈیو کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ طالبان کی سرگرمیوں کا مرکزی کردار رہا ہے، اس نے تمام بڑے واقعات کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں۔ یہ میڈیا کو ہدایات جاری کرتا تھا اور باقاعدہ طور پر انفارمیشن کی جنگ کا سربراہ رہا ہے اور اس نے یہ تمام تر کام تب کیے ہیں، جب طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیاں عروج پر تھیں۔ اسے ٹی ٹی پی کے نظام کا بہت اچھی طرح علم ہے۔‘‘

طلعت حسین کہتے ہیں کہ تحویل میں جو بیان سامنے آئے گا ظاہری بات ہے کہ اس کی صحت کمزور ہوگی لیکن اس کے بیان سے پاکستان کی ریاست کے بیانیے کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ریاست کے کیس کو اس کے بیان سے کافی سہارا ملے گا۔‘‘

پشاور میں آج نیوز کی بیورو چیف فرزانہ علی نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ حکیم اللہ محسود کا دست راست تھا، یہ مہمند گروہ کے بھی بہت قریب تھا۔ مجھے وہ سینکڑوں دہشت گردانہ کارروائیاں یاد ہیں، جن کی ذمہ داری اس نے قبول کی، اس نے میڈیا کو بھی بہت دھمکیاں دیں اور میڈیا کے نمائندوں کے قتل کی بھی ذمہ داری قبول کی۔ احسان اللہ احسان نے صحافیوں کے قتل کی ذمہ داریاں قبول کیں۔ کئی صحافی دھمکیوں کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔  اس کی گرفتاری ایک بڑی کامیابی ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پر بھی پاکستان تحریک طالبان کے ترجمان کی اس ویڈیو پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ کالم نگار ندیم فاروق پراچہ نے اس حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’شرمندگی کا کوئی اظہار نہیں، نہ ہی عام شہریوں، پولیس اور فوجیوں کے قتل عام پر کوئی شرمندگی۔‘‘ صحافی مبشر علی زیدی نے لکھا،’’ پچھلے ماہ تک احسان اللہ احسان پاکستانیوں کے بہیمانہ قتل کی ذمہ داری قبول کر رہا تھا اور اب کہہ رہا ہے کہ وہ معصوم ہے۔‘‘

Pakistan Taliban-Sprecher Ehsanullah Ehsan & Adnan Rasheed (Getty Images/AFP/H. Muslim)

احسان اللہ احسان انفارمیشن کی جنگ کا سربراہ رہا ہے، طلعت حسین

سماجی کارکن گلالئی اسماعیل نے تاہم اس ویڈیو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’یہ کیسے ممکن ہوا کہ احسان اللہ احسان عسکریت پسند سے محب وطن بن گیا ہے ؟ ایسی ویڈیوز کے منظر عام پر آنے سے ماتھے پر بل پڑھنے چاہیں اور سوچنا چاہیے کہ کس طرح سے یہ ویڈیو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو سہارا دے رہی ہے کہ دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ ’را‘ اور ’افغانستان‘ اچھے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔‘‘

طلعت حسین نے ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان کے مستقبل کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’ ویڈیو سے ایسا لگتا ہے کہ وہ وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے اس توقع پر کہ اس کی جان بچ جائی گی لیکن اس کا فیصلہ تو عدالتی کارروائی سے ہی ہوگا۔ جس قسم کے بڑے حملوں میں یہ ملوث رہا ہے اور اس نے ریکارڈ پر ان کا دفاع کیا ہے اور اس نے قتل اور فتنے کی سازش کا دفاع کیا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ اس کی جان بخشی ہو جائے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست اس کے بیان سے فائدہ اٹھائے گی اور جو سزا اس کو اعترافی بیان سے قبل ملنی تھی، وہ اب بھی ملے گی۔‘‘ 

DW.COM