1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

’مجھے معلوم ہوتا، تو یہ گولی کبھی نہ کھاتی‘

جرمن دواساز کمپنی بائر کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرنے والی فیلیسیٹاس روہرر کہتی ہیں کہ اگر انہیں اس گولی کے برے اثرات کا علم ہوتا، تو وہ کبھی یہ دوا استعمال نہ کرتیں۔

جرمن دوا ساز ادارہ یاسمینیلے اور یاز کے نام سے دو مانعِ حمل گولیاں تیار کرتا ہے۔ روہررکا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی یہ گولیاں استعمال کیں، جو ان کی پیپھڑوں کی اہم شریان کی بندش کی صورت میں اثرات کی حامل نکلیں۔ یہ گولیاں کیمیائی مرکب ڈروسپرنون کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔

اب تک امریکا میں قریب دس ہزار خواتین اس دوا کے برے اثرات کی وجہ سے بائر کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کر چکی ہے، جس کے بدلے اس جرمن دوا ساز ادارے کو اب تک قریب دو بلین ڈالر ادا کرنا پڑے ہیں، تاکہ طویل اور مہنگی عدالتی کارروائیوں سے بچا جا سکے۔

تاہم روہرر کا یہ مقدمہ، جس کی سماعت جمعرات کے روز سے شروع ہو رہی ہے، اس جرمن کمپنی کے اپنے ہی ملک میں اس طرز کا پہلا اور مختلف وجوہات کی وجہ سے علامتی مقدمہ بھی ہے۔ مشہور دوا ایسپرین تیار کرنے والا یہ جرمن ادارہ مقامی سطح پر کیمیائی مرکبات اور ادویات کے شعبے میں نمایاں ترین ہے۔

Aspirin Tablette Kopfschmerzen Bayer

بائر مشہور گولی اسپرین بھی تیار کرتی ہے

روہرر نے اس کمپنی کے خلاف صحت اور مفاد کو نقصان پہنچانے کی مد میں دو لاکھ یورو ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم روہرر کا یہ بھی کہنا ہے، ’’پیسہ اس تکلیف کا مدوا نہیں ہو سکتا، جو مجھے اور دیگر خواتین کو اس دوا کی وجہ سے اٹھانا پڑی۔‘‘

روہرر کا کہنا تھا، ’مجھے پوری امید ہے کہ اس سلسلے میں انصاف ہو گا۔‘‘

فرانسیسی سرحد کے قریب واقع علاقے وِلشٹیٹ میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ یاسمینیلے کو مارکیٹ سے ہٹا دیا جائے گا۔

31 سالہ روہرر کو پیپھڑے کی اہم ترین پلمونیری شریان کی بندش کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے انہیں وہ ادویات لینا پڑ رہی ہیں، جن کی وجہ سے ان کے ہاں کسی بچے کی پیدائش کے امکانات کم ہیں۔ انہیں سانس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ مختصر سے فاصلے کے لیے بھی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے انہیں جسم میں خون کی گھٹلیاں بننے سے روکنے کے لیے خصوصی لمبے موزے پہننا پڑتے ہیں۔

روہرر پیشے کے اعتبار سے جانوروں کی ڈاکٹر ہیں، تاہم اب چوں کہ وہ بھاری چیزیں اٹھا نہیں سکتیں، اس لیے وہ بطور صحافی کام کر رہی ہیں۔ سن 2009ء تک وہ مکمل طور پر صحت مند نوجوان تھیں، تاہم وہ اچانک گر گئیں اور ان کا دل 20 منٹ تک بند رہا، جس کے بعد ڈاکٹروں کو ایک ہنگامی آپریشن کرنا پڑا۔ آپریشن میں معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں متعدد مقام پر خون جما ہوا ہے اور اس کی وجہ سے دل تک خون کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔