′مجھے عورتوں سے نفرت ہے‘ | معاشرہ | DW | 19.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

'مجھے عورتوں سے نفرت ہے‘

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں خواتین پر خنجر سے حملہ کرنے والے شخص نے پولیس کی تحویل میں اعتراف جرم کر لیا ہے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ اس نے عورتوں پر اس لیے حملے کیے کیوں کہ اسے عورت ذات سے نفرت ہے۔

گزشتہ ہفتے پولیس نے راولپنڈی سے محمد علی نامی اس شخص کو گرفتار کر لیا تھا جو اس برس کے آغاز سے کئی عورتوں پر خنجروں سے حملہ کر چکا ہے۔ راولپنڈی کے علاقے کہوٹہ کا رہائشی یہ شخص رات کے وقت گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کو نشانہ بناتا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس شخص کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔

پولیس کے مطابق اس شخص کو حراست میں لینے میں کامیابی اُس خاکے کی بدولت ہوئی ہے، جو ایک عینی شاہد کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کی مدد سے بنایا گیا تھا۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد علی کا کہنا ہے کہ عورتوں پر چاقوؤں سے حملے اُس نے اکیلے کیے اور ان حملوں میں اس کےعلاوہ کوئی اور ملوث نہیں تھا۔ اس شخص نے پولیس کو بتایا:’’عورتوں پر خنجروں سے حملہ کر کے مجھے سکون ملتا تھا۔‘‘

پولیس کے مطابق محمد علی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کی سوتیلی ماں نے بچپن میں اس پر ظلم و جبر کیا جبکہ جس خاتون سے اُس نے محبت کی تھی، اُس نے محمد علی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس شخص کی جانب سے زیادہ تر حملے راولپنڈی کے علاقے مورگاہ میں کیے گئے۔ پولیس کے مطابق اس علاقے کے رہائشی کافی عرصے سے انتہائی خوف زدہ تھے۔ اس سال فروری سے لے کر اب تک یہ شخص 32 عورتوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ ایک حالیہ واقعے میں اس شخص نے ایک نرس کو خنجر کے وار کرتے ہوئے قتل اور دو کو شدید زخمی کر دیا تھا۔

DW.COM