1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مجھے جان جوکھوں ميں ڈال کر يورپ جانے کا کوئی شوق نہيں‘

ترکی ميں تقريباً 2.2 ملين شامی مہاجرين پناہ ليے ہوئے ہيں۔ اگرچہ لاکھوں تارکين وطن بحيرہ ايجيئن کا مختصر ليکن خطرناک سفر طے کر کے يورپ پہنچ چکے ہيں تاہم کئی ايسے بھی ہيں جو ترکی ميں ہی ايک نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہيں۔

بائيس سالہ محمد مارچ 2011ء ميں شامی خانہ جنگی کے آغاز کے کچھ ہی ماہ بعد پڑوسی ملک ترکی چلا گيا تھا۔ ترکی ميں اب اسے چار سال ہو چکے ہيں ليکن يورپ ميں بہتر زندگی کے ليے بحيرہ ايجيئن کا خطرناک سمندری سفر طے کرنے والے ہزاروں ديگر شامی تارکين وطن کی طرح وہ اس راستے پر چلنے کا خواہشمند نہيں۔

شام کے ساحلی علاقے الاذقيہ سے تعلق رکھنے والے محمد نے جنوبی ترکی ميں قائم عثمانيہ مہاجر کيمپ ميں خبر رساں ادارے اے ايف پی سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’ميں يورپ جانے کا خواب نہيں ديکھتا۔ ميں خدا کی رضا سے يہاں اپنی تعليم مکمل کر کے ايک نئی زندگی شروع کروں گا۔ پھر جب شامی خانہ جنگی ختم ہو جائے گی، تو اپنے ملک واپس چلا جاؤں گا۔‘‘ محمد کے خاندان کے کئی ارکان پناہ کے ليے يورپی ملک بيلجيئم جا چکے ہيں ليکن وہ اپنے ہی راستے پر چل رہا ہے۔

ترک زبان سيکھنے کے بعد 2013ء ميں اسے اعلیٰ تعليم کے ليے ترک يونيورسٹیوں ميں داخلے کا اہل قرار دے ديا گيا۔ اب وہ جنوب مشرقی ترک شہر ماردن ميں ايک يونيورسٹی ميں داخلہ لے کر ايک نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا ہے۔

اٹھائيس رکنی يورپی يونين محمد جيسے مزيد نوجوانوں کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے، جو يورپ کا رخ کرنے کی بجائے ترکی ميں اپنے ليے ساز گار حالات تلاش کر کے اپنی زندگيوں کو آگے بڑھائيں اور پھر وقت آنے پر دوبارہ اپنے آبائی ملک کا رخ کريں۔ ترکی کے راستے يونان تک پہنچنے والے پناہ گزينوں کو روکنے کے ليے يورپی بلاک نے نومبر ميں انقرہ حکومت کے ساتھ ايک معاہدہ طے کيا ہے، جس کے تحت ترکی ميں موجود شامی مہاجرين کی ديکھ بھال کے ليے 3.2 بلين ڈالر کی مالی امداد کے بدلے انقرہ حکومت انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ جمعرات اٹھارہ دسمبر کو جرمن چانسلر انگيلا ميرکل يورپی يونين کے چند رکن ممالک کے ايک سربراہی اجلاس کی قيادت کريں گی، جس ميں يہی موضوع زير بحث آئے گا۔

ترک صدر رجب طيب ايردوآن نے شورش زدہ ملک شام سے آنے والے پناہ گزينوں کے ليے اپنے ملک کے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس وقت تقريباً 2.2 ملين شامی مہاجرين ترکی ميں مہاجر کيمپوں ميں وقت گزار رہے ہيں۔ انقرہ حکومت شامی مہاجرين پر آٹھ بلين ڈالر کے اخراجات اٹھا چکی ہے اور اس کا يہ تقاضہ رہا ہے کہ اسے اس ضمن ميں مالی امداد درکار ہے۔

ترکی ميں تقريباً 2.2 ملين شامی مہاجرين پناہ ليے ہوئے ہيں

ترکی ميں تقريباً 2.2 ملين شامی مہاجرين پناہ ليے ہوئے ہيں

ترکی کے ليے يورپی يونين کے سفارت کار ہانس گورگ ہابر کے بقول برسلز اور انقرہ کے مابين طے پانے والی نئی ڈيل کے نتيجے ميں تازہ رقوم دستياب ہوں گی۔ انہوں نے بتايا کہ اس سے ترکی ميں موجود شامی شہريوں کی زندگيوں ميں بہتری لائی جا سکے گی اور انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی بھی کی جانا چاہيے۔ عالمی ادارے ترکی ميں شامی پناہ گزينوں کے حالات کو بہتر بنانے کے ليے کافی سرگرم ہيں۔

چند شامی پناہ گزين تو اپنی زندگياں خطرے ميں ڈال کر يورپ جانے والے اپنے ہم وطنوں پر کافی برہم بھی ہيں۔ عثمانيہ کيمپ ميں رہنے والا تينتيس سالہ احلم حنفی کہتا ہے، ’’ايک طرف شام ميں لوگ ہلاک ہو رہے ہيں تو دوسری طرف لوگ يورپ جانے کے ليے جانيں دے رہے ہيں۔ ميں يورپ جانے کا خواہاں نہيں۔‘‘ حنفی کے بقول اپنے ملک جيسا کوئی نہيں۔