1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مجھے انصاف دلایا جائے، سمیعہ کے شوہر کا مطالبہ

پاکستان میں قتل ہونے والی پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سمیعہ شاہد کے شوہر مختار کاظم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی اہلیہ کو ’غیرت کے نام‘ پر قتل کیا گیا ہے۔

مختار کاظم نے راولپنڈی میں ایک جذباتی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج دکھائے۔ کاظم نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق ان کی 28 سالہ اہلیہ کی گردن پر نشانات تھے جو ظاہر کرتا ہے کہ اسے گلہ دبا کر قتل کیا گیا تھا۔

مختار کاظم نے الزام عائد کیا کہ اس کی بیوی کو ’غیرت کے نام ‘پر قتل کیا گیا ہے۔ کاظم کا کہنا تھا، ’’میں پاکستان اور برطانوی حکومتوں سے ایک منصفانہ کاروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘‘ مختار کاظم اور سمیعہ شاہد دونوں پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں اور ان دونوں کی کی شادی دو برس قبل ہوئی تھی۔ یہ شادی شدہ جوڑا دبئی میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس کے مطابق سمیعہ شاہد کی یہ دوسری شادی تھی۔

پریس کانفرنس کے دوران کاظم نے بتایا کہ سمیعہ نے اس سے شادی سے قبل سنی مسلک کو چھوڑ کر شعیہ عقیدہ اختیارکر لیا تھا جس کے باعث سمیعہ کے والدین اس سے ناراض تھے۔

پاکستان میں ’غیرت کے نام‘ پر قتل کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں شہرت پانے والی ماڈل قندیل بلوچ کو اس کے بھائی نے ’غیرت کے نام‘ پر قتل کر دیا تھا۔ قندیل بلوچ کے بھائی نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی بہن ان کے خاندان کے لیے بدنامی کا باعث تھی۔

پولیس کو درج شکایت میں کاظم نے الزام عائد کیا ہے اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے والی سمیعہ کو 20 جولائی کو قتل کیا گیا تھا۔ سمیعہ کے والد نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس کیس کی کوئی تحقیقات نہیں چاہتے کیوں کہ سمیعہ کی موت طبعی تھی۔

مقامی پولیس نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ سمیعہ کے سابق شوہر محمد شکیل کو شامل تفتیش کیا گیا ہے لیکن فی الحال وہ ضمانت پر رہا ہے۔ علاوہ ازیں سمیعہ کے والدین اور رشتہ داروں کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

پاکستانی پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی نے ’غیرت کے نام پر قتل‘ اور ’ریپ‘ کے خلاف ایک نئے قانونی مسودے کو منظور کر لیا ہے۔ یہ قانونی مسودہ اگست میں پارلیمنٹ کے ایک مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر برس ایک ہزار سے زائد عورتوں کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ کر دیا جاتا ہے۔

موجودہ قانون کے تحت یہ عمل جرم ہے تاہم قتل کیے جانے والے مرد یا عورت کے اہل خانہ موجودہ قانون کے تحت قاتل کو معاف کر دینے کا حق رکھتے ہیں۔ پاکستان کے وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد کے مطابق نئے قانونی مسودے کے تحت مقتول کے اہل خانہ قاتل کو صرف پھانسی کی سزا سے بچانے کے لیے معاف کر سکیں گے لیکن قاتل کو ساڑھے بارہ سال کی عمر قید کی سزا بھگتنا پڑے گی۔

DW.COM