1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مجسمہ آزادی کی گردن زنی‘، جرمن جریدے کے ٹائٹل پر تنازعہ

جرمن ہفت روزہ جریدے اشیگل کے سرورق پر حال ہی میں شائع کردہ وہ خاکہ بہت متنازعہ ہو گیا ہے، جس میں علامتی طور پر امریکی صدر ٹرمپ کو ایک ہاتھ میں ایک خنجر اور دوسرے میں امریکی مجسمہ آزادی کا کٹا ہوا سر پکڑے دکھایا گیا ہے۔

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے اتوار پانچ فروری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ تنازعہ ہفتہ چار فروری کو اس وقت پیدا ہوا جب جرمنی کے ایک کثیر الاشاعت ہفت روزہ جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ نے نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں، خاص کر ان کی امیگریشن پابندیوں کی پالیسی کو اپنی کور سٹوری کا موضوع بنایا۔

بحث اس وجہ سے شروع ہوئی کہ اس میگزین نے اپنے سرورق پر ایک خاکہ شائع کیا، جسے دیکھنے کے بعد کسی کو بھی کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ اس جریدے کی مراد کون سی عالمی شخصیت ہے۔

دو دنوں میں ٹرمپ کے لیے دوسرا بڑا عدالتی دھچکا

امیگریشن پابندیاں: ’نام نہاد جج کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے‘، ٹرمپ

ٹرمپ کی امیگریشن پابندیاں، امریکی عدالت نے عمل درآمد روک دیا

اس خاکے میں چہرے کے خد و خال دکھائے بغیر بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ نظر آنے والی ایک شخصیت کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ اس نے اپنے بائیں ہاتھ میں ایک خون آلود خنجر پکڑا ہوا ہے اور دائیں ہاتھ میں امریکا میں انفرادی اور اجتماعی آزادیوں کی علامت سمجھے جانے والے مجسمہ آزادی کا کٹا ہوا سر۔

ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ خاکہ ایک ایسے بہت مشہور آرٹسٹ کا بنایا ہوا ہے، جو خود بھی سیاسی وجوہات کی بناء پر ترک وطن پر مجبور ہوا۔ ایڈل روڈریگیز نامی اس آرٹسٹ کا تعلق پیدائشی طور پر تو کیوبا سے ہے لیکن وہ گزشتہ کئی برسوں سے امریکا میں مقیم ہیں۔

Amerika Freiheitsstatue (dapd)

نیو یارک کے بندرگاہی علاقے میں نصب کردہ امریکی مجسمہ آزادی

Der Spiegel کے شائع کردہ اس اسکیچ میں ایڈل روڈریگیز نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مشابہت رکھنے والے فرد کے ہاتھوں میں صرف خون آلود خنجر اور مجسمہ آزادی کا کٹا ہوا سر ہی نہیں دکھائے بلکہ ساتھ ہی نیچے طنزاﹰ ٹرمپ کا بار بار استعمال کیا جانے والا انتخابی نعرہ ’امیریکا فرسٹ‘ یا ’پہلے امریکا‘ بھی لکھ رکھا ہے۔

اس خاکے کی اشاعت پر شروع ہونے والی بحث اور چند حلقوں کی طرف سے کی جانے والی شدید تنقید کے جواب میں ڈیئر اشپیگل کے چیف ایڈیٹر کلاؤس برِنک بوئمر نے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا، ’’ہمارے جریدے کے ٹائٹل پر امریکی صدر اس علامت کی گردن زنی کرتے دیکھے جا سکتے ہیں، جس نے 1886ء سے لے کر اب تک تارکین وطن اور مہاجرین کو جمہوریت اور آزادی کی عملی حمایت کرتے ہوئے امریکا  میں خوش آمدید کہا تھا۔‘‘

جرمنی میں ایک اہم جریدے کے سرورق پر اس خاکے کی اشاعت کے بعد خود جرمنی میں اور جرمنی سے باہر کئی یورپی اور غیر یورپی ملکوں کے میڈیا اداروں میں بھی اس موضوع پر ایک پرزور بحث شروع ہو گئی۔

جرمنی کے کثیر الاشاعت عوامی روزنامے ’بلڈ‘ کے مطابق اس خاکے اور اس برطانوی شہری کے خاکے میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے، جسے بین الاقوامی میڈیا ’جہادی جان‘ کے نام سے جانتا ہے۔ جہادی جان شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کا وہ جنگجو تھا، جسے اس جہادی تنظیم کی جاری کردہ کئی ویڈیوز میں اس طرح دیکھا جا سکتا تھا کہ وہ داعش کے زیر قبضہ یرغمالیوں کے کٹے ہوئے سر ہوا میں لہراتے ہوئے نظر آتا تھا۔

US-Einreiseverbot gegen Muslime: Widerstand in den USA (Reuters/T. Soqui)

ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف امریکا اور دیگر ملکوں میں مظاہرے جاری ہیں، اس تصویر میں امریکی شہر لاس اینجلس کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر کیا گیا ایک حالیہ مظاہرہ

روزنامہ بِلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی پارلیمان کے نائب اسپیکر اور جرمنی کی لبرل جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے الیگزانڈر گراف لامبسڈورف نے کہا، ’’اس خاکے کی اشاعت برے ذوق کی علامت ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد کی زندگیوں کا بڑے فضول انداز میں حوالہ دے رہا ہو۔‘‘

اسی طرح قدامت پسند جرمن روزنامے دی وَیلٹ نے، جو بِلڈ کی طرح آکسیل اشپرنگر پبلشنگ گروپ کی ملکیت ایک اشاعتی ادارہ ہے، کھلی تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اشپیگل کی ٹائٹل پکچر نے ’صحافت کو سستا اور کم قدر‘ کر دیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس نومبر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی پر بھی اپنی ایک اشاعت میں اشپیگل نے ٹرمپ کو ایک ایسے شہاب ثاقب کے طور پر دکھایا تھا، جو زمین سے ٹکرا رہا تھا۔

اسی دوران امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس خاکے کے خالق آرٹسٹ ایڈل روڈریگیز کے اس موقف کو اپنی اشاعت کا حصہ بنایا ہے کہ انہوں نے یہ اسکیچ ’ایک فنکار کی طرف سے سماجی تنقید‘ کے طور پر کس نقطہ نظر سے بنایا تھا۔

DW.COM