1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

متوازن خوراک: عالمی ادارے کی رپورٹ پر پاکستان میں تشویش

ایک بین الاقوامی ادارے کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں آبادی کا ایک بڑا حصہ متوازن خوراک سے محروم ہے۔ اس وجہ سے پاکستان میں قریب پینتالیس فیصد بچوں کی جسمانی نشو و نما متاثر ہو سکتی ہے۔

اس رپورٹ کے اجراء کے بعد پاکستان میں کئی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نامی ادارے نے، جس کا صدر دفتر واشنگٹن میں ہے، یہ رپورٹ حال ہی میں جاری کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا پانچواں حصہ متوازن خوراک سے محروم ہے، جب کہ سن دو ہزار دس میں چالیس اعشاریہ تین فیصد بچے ایسے تھے جنہیں جسمانی نشو و نما سے متعلقہ مسائل کا سامنا تھا۔ لیکن اب ایسے بچوں کی تعداد بڑھ کر پینتالیس فیصد ہوگئی ہے۔

امیر اور غریب ممالک، دونوں میں بچوں میں موٹاپا بڑھتا ہوا

آٹھ سو ملين سے زائد افراد خوراک کی کمی کے شکار

خوراک کی فراہمی سب کے لیے، موجودہ صدی کا اہم ترین چیلنج

پاکستان میں سماجی ترقی اور صحت کے شعبوں کے کئی ماہرین نے اس رپورٹ کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ماہرِ سماجی ترقی عامر حسین نے اس رپورٹ پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’حکومت کی توجہ صحت اور تعلیم پر ہے ہی نہیں۔ یہ دونوں شعبے وہ ہیں، جنہیں پاکستان میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ایک خطیر رقم صرف موٹر ویز اور سڑکوں پر لگا دی گئی ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ایسے منصوبوں میں چار سو ارب روپے کے بے ضابطگیاں ہوئیں۔ تصور کریں کہ یہ قریب چار بلین ڈالر بنتے ہیں۔ تو جو خطیر رقم حکومت ہائی ویز اور سڑکوں پر لگا رہی ہے، اگر اس کا ایک حصہ بھی صحت کے شعبے میں لگا دیا جائے، تو صورت حال بہت بہتر ہو سکتی ہے،‘‘

عامر حسین نے کہا کہ فصلوں کی وجہ سے بھی خوراک کے معاملات شدید ہوئے ہیں۔ ’’ماضی میں حکومت گندم اور چاول پر بہت سبسڈی دیتی تھی۔ دیہات میں لوگ زرعی پیداوار کا ایک حصہ اپنی خوراک کے طور پر استعمال کرتے تھے اور باقی بیچ دیتے تھے۔ تو انہیں ایک طرح سے فوڈ سکیورٹی حاصل تھی۔ لیکن اب رجحان زیادہ آمدنی والی فصلوں کا ہے۔ کسان ’کیش کراپ‘ اگاتا ہے۔ ماضی میں اسے کھانے پینے کی جو اشیاء بہت سستی ملتی تھیں، اب بہت مہنگے داموں ملتی ہیں۔ اس وجہ سے بھی غذا کا مسئلہ سنگین ہو رہا ہے۔‘‘

Pakistan, Internationale Ausstellung für Kunststoff- und Lebensmitteltechnik in Karachi

’بچوں کی جسمانی نشو و نما کے مسائل کی ایک وجہ غیر صحت بخش اشیائے خوراک بھی ہیں‘

ماضی میں عالمی ادارہ برائے صحت کے کئی منصوبوں پر کام کرنے والے ماہر صحت ڈاکڑ محمد عامر کے خیال میں صحت کے شعبے پر نوکر شاہی کا قبضہ ہے، جس کی وجہ سے اس شعبے کے مسائل کئی گناہ بڑھ گئے ہیں۔ اس رپورٹ پر اظہار رائے کرتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہمارے ملک میں ضلعی سطح پر جو لوگ صحت کے شعبے کو دیکھ رہے ہیں، انہیں اس شعبے کے مسائل کا ادراک ہی نہیں۔ وہ اپنے افسران کو خوش کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی جھوٹی رپورٹیں بنا سکتے ہیں۔ تو سب سے پہلے ایسے افراد کو آگے لایا جانا چاہیے، جنہیں شعبہ صحت کے مسائل کا علم ہو۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں صحت پر جی ڈی پی کا ایک فیصد بھی خرچ نہیں ہوتا، جب کہ پاکستان جیسے کئی ممالک میں یہ شرح تین سے چار فیصد ہے۔ تو اس شرح کو بھی فوری طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں جسمانی نشو و نما اور نا مناسب خوراک کے مسائل انتہائی سنگین ہیں۔ ایسے علاقوں میں ہنگامی طور پر پروگرام شروع کیے جانا چاہییں تاکہ اس شدید ہوتے ہوئے خطرے کو روکا جا سکے۔‘‘

کیڑے مکوڑے کھاؤ اور جان بناؤ

بھارتی قوم پرستوں کا ’برتر بچے‘ بنانے کا دعوی

بھارتی شہری  پھل کھائیں اور پانی کی کمی پر قابو پائیں

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر تاج حیدر کا خیال ہے کہ سار ا ملبہ حکومت پر ڈالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیوں کہ اس سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس رپورٹ پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’یہ رویوں کا بھی مسئلہ ہے۔ آپ خود اپنے بچے کو دودھ کا گلاس دے کر دیکھیں کہ وہ کیا کہتا ہے۔ ہم لوگ دودھ، پھل، سبزیاں اور دیگر صحت بخش اشیاء خود کھاتے نہیں اور الزام کہیں اور لگا دیتے ہیں۔ ہمارے بچے چاکلیٹ، فرنچ فرائز اور دوسری کیمیکلز والی جو چیزیں کھا رہے ہیں، اس میں کس کا قصور ہے؟ میرا تعلق بھی ایک غریب گھرانے سے تھا اور میری والدہ نے تمام بہن بھائیوں کو اچھی اور صحت مند خوراک دی۔ تو میرے خیال میں ماؤں کی تربیت کی ضرورت ہے کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ پلائیں اور اس کے علاوہ مناسب غذا کا موضوع تو خود ایک سائنس ہے۔ ہمارے ہاں اسکولوں کے نصاب میں اس کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ بچوں میں بڑے پیمانے پر اس حوالے سے شعور پیدا ہو اور وہ اپنی کھانے پینے سے متعلق عادات بدلیں۔‘‘

اسی رپورٹ پر حکومتی موقف کا اظہا رکرتے ہوئے سینیٹر راجہ ظفرالحق نے کہا، ’’کئی ناقدین کے خیال میں ایسی رپورٹوں میں خوراک اور صحت کے حوالے سے جس معیار کی بات کی جاتی ہے، وہ ترقی پذیر ممالک کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ یورپ اور امریکا کے لیے ہے۔ میں اس خیال کا حامی نہیں ہوں۔ لیکن میرے خیال میں اس طرح کے اداروں کو وقت نکال کر حکومتوں سے بھی ملنا چاہیے۔ پاکستان میں اس حوالے سے بہت بہتری آئی ہے۔ صحت کارڈ کا اجراء ہوا ہے۔ بیت المال، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور کئی حکومتی اسکیموں نے غربت کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اس میں ابھی مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:23

پانی کے بہاؤ کے ساتھ ورزش۔۔

DW.COM

Audios and videos on the topic