1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

متوازن بجٹ کے لیے جرمنی کا ’سنہرا قانون‘ اور دیگر یورپی ممالک

یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے بجٹ خسارے کو قابو میں رکھیں تاہم زیادہ تر ممالک ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یورپ کی مضبوط معیشت جرمنی نے ایک ’سنہرا قانون‘ متعارف کروایا ہے۔

default

مضبوط ترین یورپی معیشت کی رہنما انگیلا میرکل

جرمنی کے آئین کے مطابق جرمن حکومت کے لیے لازمی ہے کہ اس پر بجٹ کا کوئی خسارہ نہ ہو، یعنی آمدنی اور اخراجات میں کوئی عدم توازن نہ ہو۔ دو ہزار سولہ سے فرانس اور اٹلی بھی اسی قانون پر عمل کرنا شروع کریں گے۔ منگل کے روز اسپین نے بھی اسی نوعیت کے ایک اصول پر بحث کی منظوری دی ہے۔  اس حوالے سے یورپی یونین کے بعض ممالک پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جہاں متوازن بجٹ کا آئینی نظام موجود ہے یا پھر وہ اس نظام کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں ہیں۔

جرمنی: جرمنی نے سن دو ہزار نو میں بجٹ خسارے کو درست کرنے کے لیے ایک قانون اس وقت نافذ کیا، جب عالمی معاشی بحران اپنے عروج پر تھا۔ اس قانون کے مطابق جنوری دو ہزار سولہ سے حکومت کے بجٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر اعشاریہ تین پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے، جب کہ اس کے  مقابلے میں یورپی یونین کی حد تین فیصد ہے۔ اس حد میں اضافہ صرف غیر معمولی صورت حال، جیسا کہ قدرتی آفات وغیرہ کی صورت میں ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسپین: منگل کے روز اسپین نے جرمنی کی طرز پر بجٹ خسارے پر حد لگانے سے متعلق بحث کی منظوری دے دی۔ اس ضمن میں حکمران سوشلسٹ پارٹی اور قدامت پسند پاپولر پارٹی میں اتفاق ہو گیا ہے۔

Euro Eurokrise Europäische Länder in der Schuldenkrise Flash-Galerie

یورپی یونین کے ممالک معاشی بحران کا شکار ہیں

فرانس: فرانسیسی قانون سازوں نے تیرہ جولائی کو اس حوالے سے ایک قرارداد منظور کی۔ اب پارلیمان کی جانب سے اس پر مکمل رائے شماری ہوگی۔ قانون کی منظوری کے لیے ساٹھ فیصد ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔ اپوزیشن سوشلسٹ جماعت نے اس قانون کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

اٹلی: اطالوی وزیر خزانہ نے بجٹ خسارے کی حد بندی سے متعلق قانون سازی پر امید ظاہر کی ہے تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے اب تک کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کیا گیا ہے۔

برطانیہ: برطانیہ میں بجٹ خسارے کے حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون تو نہیں ہے مگر سابق وزیر اعظم گورڈن براؤن نے انیس سو ستانوے سے سن دو ہزار سات تک کے اخراجات میں توازن کے حوالے سے بعض اقدامات کیے تھے۔ معاشی بحران کے شروع ہونے کے بعد براؤن کے یہ اقدامات پس پشت چلے گئے۔

پرتگال: مالیاتی بحران کے شکار پرتگال میں اس برس نئی حکومت منتخب کی گئی اور اس نئی حکومت نے بجٹ خسارے کی حد بندی کے حوالے سے بعض تجاویز پارلیمنٹ میں پیش کی ہیں۔ ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

آئیرلینڈ: مالیاتی بحران کے شکار اس ملک میں بھی بجٹ کو توازن میں رکھنے کے حوالے سے کوئی ’سنہرا قانون‘ موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قانون سازی کا روشن امکان ہے۔

یونان: یونان میں بعض معاشی اصلاحات اور بچتی پروگرامز کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم یہ ملک بھی یورپی یونین کی جانب سے امداد کا خواہش مند ہے اور یہاں بھی آئینی طور پر بجٹ خسارے کی کوئی حد مقرر کرنے کا تصور موجود نہیں ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  اے ایف پی

ادارت: امتیاز احمد

 

DW.COM