1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متنازعہ کشمیر کا ’غلط نقشہ‘، بھارتی اسکول پرنسپل گرفتار

بھارت میں ایک اسکول کے پرنسپل کو بغاوت کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس استاد پر الزام ہے کہ اس نے کشمیر کے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقے کا ’نادرست نقشہ‘ شائع کیا۔

بھارتی پولیس کی جانب سے بدھ بیس جولائی کے روز بتایا گیا کہ کشمیر کا ’غلط نقشہ‘ شائع کرنے پر مدھیہ پردیش ریاست کے ایک اسکول کے پرنسپل کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بھارتی قانون کے تحت یہ ایک قابل تعزیر جرم ہے، جس کی سزا عمر قید تک ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس استاد کو دو روز قبل پیر کے دن حراست میں لیا گیا۔ اسکول کا یہ پرنسپل اس اسکول اور ایک پرنٹنگ پریس کا مالک بھی ہے۔ دائیں بازو کے ایک ہندو کی جانب سے بچوں کو دی جانے والی ڈائری میں کشمیر کا غلط نقشہ شائع کرنے کی شکایت پر پیر کے روز اس پرنسپل کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق گرین بَیلز پبلک اسکول میں سینکڑوں ایسی ڈائریاں بچوں کو دی گئیں، جن میں کشمیر کے متعدد متنازعہ حصوں کو پاکستان اور چین کے ریاستی علاقوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

Kaschmir Konflikt Karte

کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے، تاہم بھارتی حکومت اس سلسلے میں سخت پابندیوں کا نفاذ کیے ہوئے ہے، جن میں نقشوں کے حوالے سے شدید سختی بھی شامل ہے۔ بھارتی حکومت کا اصرار ہے کہ کشمیر کو ہر نقشے میں بھارت کا حصہ دکھایا جائے۔

مدھیہ پردیش کے علاقے شادول میں مقامی پولیس کے مطابق اس اسکول سے وابستہ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان پر بغاوت اور قومی مفادات کے خلاف کام کرنے کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔

منگل کے روز ان ملزمان کی جانب سے ضمانت کی درخواست بھی عدالت نے مسترد کر دی۔ ان افراد نے پولیس کو بتایا کہ غلط نقشہ ’غلطی‘ سے شائع ہوا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق اگر ان ملزمان پر یہ جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو انہیں بغاوت اور غداری سے متعلق ایک متنازعہ قانون کے تحت عمر قید تک کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔

اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات کی وجہ سے بھارت میں قومی نقشہ ایک نہایت حساس موضوع ہے اور خصوصاﹰ کشمیر کے نقشے کے حوالے سے بھارتی حکام نہایت سخت موقف رکھتے ہیں۔ بھارت میں ایک نئے قانونی مسودے کی تیاری جاری ہے، جس میں غلط نقشے شائع کرنے والوں کے خلاف 15 ملین ڈالر تک کے جرمانے اورسات برس قید کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔