1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متنازعہ سائبر کرائم بل، سینیٹ میں پیش

پاکستان کی قومی اسمبلی سے متنازعہ سائبر کرائم بل منظورہونے کے بعد اب یہ بل پاکستان کی سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ بل کے ناقدین اسےعوام کے اظہارے رائے کے حق پر کھلا وار قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والے ماہرین کی رائے میں یہ بل قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات دے دے گا اور اس کے باعث شہری آزادیاں محدود کردی جائیں گی۔ اس بل کی کچھ شقوں کے تحت کسی کی رضامندی کے بغیر کسی کو ٹیکسٹ میسج بھیجنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر حکومتی اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے والے کو جرمانے اور قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ کسی منفی مقصد کے لیے ویب سائٹ بنانے، اور کسی شخص کے بارے میں غلط معلومات دینے پر بھی سزا دی جا سکے گی۔

حکومت کے طرزِ عمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست انسداد دہشت گردی کی آڑ میں عوام کے بنیادی حقوق کی نفی کر رہی ہے۔ اس بل کی ایک شق کے مطابق آپ کے خلاف انٹرنیٹ پر نفرت انگیز مواد یا کسی کے خلاف کوئی غلط الزام لگانے کی صورت میں قانونی کارروائی ہو سکے گی۔ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اس بات کا تعین کون کرے گا کہ آیا کوئی مواد اسلام یا ملک کی سلامتی کے خلاف ہے یا نہیں۔

آج منگل 17 مئی کو سینیٹ میں پیش ہونے سے پہلے پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والے دو اداروں ‘بولو بھی‘ اور’ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن‘ نے سینیٹ کی حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ اس بل کے بارے میں خدشات پر بحث کی تھی۔ ’بولو بھی‘ کی ڈائریکٹر فریحہ عزیز نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہماری اطلاعات کے مطابق سینیٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس بل کو سینیٹرز کی متفقہ رائے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی انسانی حقوق کی کمیٹی کے ساتھ کام کرے گی اور اس بل پر عوامی سماعت کی جائے گی۔ فریحہ عزیز نے اس بل کے حوالے سے مزید کہا، ’’بل کی شق 18، 19، 21 اور 34 کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو انٹرنیٹ پر مواد ڈالنے اور نکالنے کے اختیارات مل جائیں گے، ہمیں ان شقوں پر شدید تحفظات ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں یہ بل مسلم لیگ نون کی رکن اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے پیش کیا تھا۔ قومی اسمبلی میں تو یہ بل منظور کر لیا گیا تھا تاہم قومی اسمبلی کے برعکس سینیٹ میں مسلم لیگ نون اکثریت میں نہیں ہے لہذا اس بل کا موجودہ صورت میں پاس ہونا ایک مشکل عمل لگ رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، اور متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹرز اس بل کی کئی شقوں سے متفق نہیں ہیں۔

کئی سیاست دان اور صحافی پہلے ہی اس بات پر نالاں ہیں کہ موبائل فون پر وہ جو بھی گفتگو کرتے ہیں، وہ ریکارڈ کی جاتی ہے۔ دوسری طرف دہشت گرد انٹرینٹ اور موبائل ایپلیکیشنز استعمال کرتے ہوئے ایسے جدید طریقے اختیار کرتے ہیں، جن کی وجہ سے وہ تحقیقاتی اداروں کی نظروں میں آنے سے بچ جاتے ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ اس بل سے دہشت گردی کی کارروائیاں تو نہیں رکیں گی لیکن عام شہری ضرور متاثر ہوں گے، جو دہشت گردوں کی طرح جدید ٹیکنالوجی سے واقف نہیں ہیں۔

DW.COM