1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متنازعہ خبر کا معاملہ، پرویز رشید کو وزارت اطلاعات سے ہٹا دیا گیا

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق ملکی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو ان کی وزارت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ انہیں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے متعلق خبر لیک کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیر اطلاعات پرویز رشید کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا کہہ دیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ڈان نیوز میں شائع ہونے والی خبر قومی مفاد کے منافی تھی جبکہ موجودہ شواہد کے مطابق وزیر اطلاعات نے کوتاہی برتی۔ اعلامیے کے مطابق آزادانہ تحقیقات کے سلسلے میں وزیر اطلاعات کو اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔

 یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب پاکستانی اخبار ’ڈان‘ پر ایک ایسی سٹوری شائع کی گئی تھی، جس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی تفصیلات منظر عام پر لائی گئی تھیں۔

پاکستانی صحافی سیرل المیڈا نے اپنی اخباری رپورٹ میں قومی سلامتی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کی جمہوری قیادت اور فوج کے درمیان شدت پسندوں کی معاونت کے معاملے پر اختلافات کا ذکر کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں فوج سے کہا گیا تھا، ’’یا تو عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا جائے یا پھر بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا کریں۔‘‘

  ڈان نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ پرویز رشید سے قلمدان اس ابتدائی پیراملٹری انکوائری کے بعد لیا گیا ہے، جس کے احکامات وزیر داخلہ چودھری نثار نے دیے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے، جس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا وزیر اطلاعات ’خبر کے لیک‘ ہونے میں ملوث ہیں یا نہیں۔ یہ انکوائری ایک ایسی کمیٹی کرے گی، جس میں پولیس کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے سینئر اہلکار شامل ہوں گے۔

قبل ازیں پاکستان کی عسکری قیادت نے ’قومی سلامتی کی خلاف خبر فیڈ‘ کرنے پر ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستانی کے مشہور صحافی کامران خان نے اس بارے میں اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اطلاعات سے قلمدان کا لیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے اور اس طرح وزیر اعظم نے ایک اہم مسئلے کو حل کر لیا ہے۔