1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متنازعہ جوہری پروگرام: ایران کا مکالمت سےدوبارہ انکار

ایرانی جوہری پروگرام پر پہلی اکتوبر سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین بشمول جرمنی کے مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ کا تازہ بیان مذاکرات کے نئے دور کے لئے دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

default

ایرانی وزیر خارجہ منو چہر متقی، فائل فوٹو

ایران نے ایک بار پھر اپنے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں دوسرے ملکوں سے کسی بھی طرح کی مکالمت سے انکار کردیا ہے اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بارے میں کسی مصالحتی حل تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ سے اتوار کی صبح ملنے والی رپورٹوں میں جاپانی سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے اپنے جاپانی ہم منصب کاتسویا اوکادا کے ساتھ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی ایک ملاقات میں کہا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں کسی سے کوئی مباحثہ نہیں کرے گا۔

Katsuya Okada

نئے جاپانی وزیر خارجہ ، اپنی پارٹی کے اجلاس میں

فرانسیسی خبر ایجنسی نے جاپانی سفارتی ذرائع کا نام لئے بغیر حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس ملاقات میں متقی نے اوکادا کو بتایا کہ ایرانی عوام مکالمت کو پسند کرتے ہیں اور اس کا احترام بھی کرتے ہین۔ تاہم وہ اپنے حقوق سے متعلق کسی دوسرے سے کوئی بات چیت کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

ایرانی اور جاپانی وزرائے خارجہ کی اس ملاقات میں منوچہر متقی نے کہا: "امریکی صدر باراک اوباما اپنے سیاسی نظریے میں بار بار تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ صرف زبانی طور پر ایسا کہتے رہنے کی بجائے عملی طور پر ایسا کر کے بھی دکھائیں گے۔"

مغربی دنیا کا الزام ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام غیر اعلان شدہ انداز میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق ہے جبکہ تہران کی طرف سے کئی بار یہ جوابی مؤقف ظاہر کیا جا چکا ہے کہ اس کا بین الاقوامی سطح پر متنازعہ قرار دیا جانے والا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے، اور ایران ایک ریاست کے طور پر عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں میں کمی اور ان کے بتدریج خاتمے کا حامی ہے۔