1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

متنازعہ بھارتی فلم پر تین ریاستوں میں پابندی عائد

بالی وڈ کی متنازعہ مسئلے پر مبنی فلم پر، جس میں ’ذات پات‘ کو موضوع بنایا گیا ہے، بھارت کی تین ریاستوں میں پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

default

اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح تعلیمی اداروں میں داخلے بھی ذات پات کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ اس فلم کو تین ریاستوں میں بین کیا گیا ہے۔ اس فلم کے پروڈیوسر پرکاش جھا نےآج جمعے کے روز اس فلم پر عائد پابندی ختم کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

اتر پردیش، پنجاب اور آندھر پردیش کی ریاستوں نے فلم کو بین کیا، کیونکہ وہاں کی سیاسی جماعتوں نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ اس فلم کے ریلیز ہونے کے بعد پرتشدد کارروائیوں کا آغاز ہو سکتا ہے۔ فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر پرکاش جھا کے وکیل نے دی ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ یہ فلم سنسر بورڈ سے پاس ہو چکی ہے اور پورے ملک میں شیڈول کے مطابق جمعے کو ریلیز ہونا ہے۔

پرکاش جھا نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ پابندی اصل میں آزادی اظہار پر پابندی ہے جو بھارتی آئین کے خلاف ہے۔ فلم ڈائریکٹر کے مطابق اس فلم میں کسی مذہبی رسم کو موضوع بنانے کی بجائے، سیاستدانوں پر تنقید کی گئی ہے کہ کس طرح ذات پات کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پریس بریفنگ دیتے ہوئے جھا نے کہا کہ ہم نے اعتراض کے بعد فلم میں تھوڑی بہت تبدیلیاں ڈائیلاگ اور مناظر میں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ فلم بنانے میں بہت محتاط رہے ہیں۔ ’’بھارتی حکومت نے عشروں سے تعلیمی اداروں میں سماجی طور پر محروم طبقات کے لیے سیٹیں مختص کر رکھی ہیں۔‘‘

اس فلم میں کام کرنے والے68 سالہ بالی وڈ میگا اسٹار امیتابھ بچن نے ان تین ریاستوں میں فلم کی بندش کے فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بلاگ میں لکھا، ’بغیر تصدیق کیے افواہوں پر قانون سازوں نے اس فلم کو بین کر دیا ہے۔‘

بچن، جو اس فلم میں کامیاب اسکول پرنسپل کا کردار ادا کر رہے ہیں، ان کا اپنے بلاگ میں لکھنا ہے کہ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فلم اچھی ہے کہ نہیں لیکن اس فلم نے حکومت اور موجودہ صورتحال کو آئینہ دکھانے جیسا کام کیا ہے۔

رپورٹ : سائرہ ذوالفقار

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM