1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

متنازعہ برڈ فلو وائرس، تحقیق کے بعض حصے شائع نہیں ہوں گے

اعلیٰ امریکی سائنسدانوں نے بدھ کے روز ایک سائنسی جریدے میں برڈ فلو وائرس کے مصنوعی تبدیلیوں سے گزارے گئے وائرس کے بارے میں جدید تحقیق کے بعض حصوں کو سائنسی جریدے میں شائع نہ کرنے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

default

ان سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مصنوعی تبدیلوں کا حامل یہ وائرس انتہائی خطرناک ہے اور اس تحقیق کے بعض حصوں کو سائنسی جرنل میں شائع نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ کہیں دہشت گرد یا انتہا پسند ان تکنیکس سے واقف نہ ہو جائیں۔ سائسندانوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں اس وائرس کو حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دریں اثناء اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بھی حکومت اور اس سائنسی جریدے کے مدیران سے مکمل تعاون کا عندیہ دیا ہے۔ یہ سائنسی تحقیق سائنس اور نیچر نامی جرائد میں چند ہفتے بعد شائع ہونا تھی، مگر اب اس کے بعض حصے حذف کر دیے جائیں گے۔

BdT Vogelgrippe Impfung in Vogelpark

اس وائرس پر تحقیق برسوں سے جاری ہے

یہ متنازعہ تحقیق سائنسدانوں کی دو ٹیموں کی جانب سے کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک ٹیم کا تعلق ہالینڈ سے جبکہ دوسری کا امریکہ سے تھا۔ دونوں ٹیموں نے دو مختلف طریقوں سے برڈ فلو کا باعث بننے والے وائرس H5N1 آویَن انفلوینزا میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ یہ خطرناک حد تک ممالیہ جانوروں میں منتقل ہو سکتا ہے اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔

اب تک برڈ فلو وائرس انسانوں کو کم ہی متاثر کرتے دیکھا گیا ہے تاہم جب یہ کسی انسان کو متاثر کرتا ہے، تو جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ H5N1 نے سب سے پہلے 1997ء میں انسانوں کو متاثر کیا تھا۔ اس وائرس سے متاثر ہونے والے ہر دو میں سے ایک شخص کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے اور مجموعی طور پر ان ہلاکتوں کی تعداد 350 ریکارڈ کی گئی تھی۔

اس وائرس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ ترقی اور نمو پا کر انسانوں میں ایک وبا کا باعث بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ وائرس بالکل ویسے ہی خوفناک حد تک انسانی جانوں کے زیاں کا باعث بن سکتا ہے، جیسے سن 1918 کا ’اسپینش فلو‘، جو 50 ملین انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنا تھا۔ اسی طرح 1957 اور 1968ء میں پھیلنے والے ایسے ہی ایک وائرس نے تین ملین انسانوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس وائرس میں تبدیلوں کو غیر سرکاری تنظیوں کے ایک مشاورتی پینل نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، تاہم سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد اس وائرس کے حوالے سے تفصیلی معلومات جمع کرنا ہے، تاکہ اس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی تیاری میں مدد مل سکے جبکہ ابتدا میں ایسے ڈیٹا کے چند حصوں کو حذف کرنے کو ان سائسندانوں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’معلومات پر سینسر شپ‘ کا نام دیا تھا۔

Vogelgrippe auf dem Balkan

اس وائرس کا اصل شکار پرندے ہوتے رہے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں یہ ظاہر نہیں ہے کہ مصنوعی طور پر تیار کردہ یہ وائرس کس طرح انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ وائرس کس طرح قدرتی طور پر خود میں تبدیلیاں کر کے انسانوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم نیشنل سائنس ایڈوائزری بورڈ برائے بائیو سکیورٹی کے سربراہ پاؤل کیم نے خبر رساں ادارے AFP سے بات چیت میں کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے ڈچ سائنسدانوں سے بھی رابطہ کیا ہے، جبکہ بورڈ کے تمام 23 اراکین نے متفقہ طور پر تحقیقی رپورٹوں کے کچھ حصوں کو شائع نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے تاکہ اس تکنیک کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی تباہ کن حیاتیاتی ہتھیار ہو سکتا ہے، کیونکہ جو بھی اسے استعمال کرے گا، وہ پھر اپنے لوگوں کو بھی اس سے بچانے میں ناکام ہو جائے گا۔

’’یہ بات بھی یاد رکھنا ہو گی کہ اگر یہ تکنیک اور وائرس انتہا پسند قوتوں کے ہاتھ لگ گیا، تو وہ اسے پوری دنیا میں خودکش حملوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ایک مکمل تباہی ہو گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھیار ہرگز تیار نہ کیے جائیں، جن کا تدارک ہی ناممکن ہو اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی انہیں قابو میں لانے میں ناکام ہو جائیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس وائرس کے حوالے سے تفصیلات ایسے سائسندانوں کو فراہم کی جائیں گی، جنہیں ان معلومات کی ضرورت ہو گی تا کہ وہ اس کے نتائج کو اپنی تحقیق میں استعمال کر سکیں۔‘‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: امجد علی

DW.COM