1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متنازعہ ایرانی صدارتی الیکشن:بارہ جون امن رہا

گزشتہ سال بارہ جون کے صدارتی انتخابات کے ایک سال مکمل ہونے پر ایران میں سخت سیکیورٹی انتظامات تھے۔ اس کے باوجود سیکیورٹی اہل کاروں اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان ہلکی پھلکی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

default

تہران یونیورسٹی کے کیمپس میں طلبہ کا مظاہرہ: فائل فوٹو

بارہ جون بروز ہفتہ ایرانی دارالحکومت تہران میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ تہران میں تمام اہم سڑکوں اور شاہراہوں پر وردی اور بغیر وردی والے سیکیورٹی اہلکار چوکس تھے۔ متنازعہ صدارتی الیکشن کو ایک سال مکمل ہونے پر حکومت نے اپوزیشن کے متحرک لیڈروں کو پہلے سے پابند کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا۔

بارہ جون کا دن بغیر کسی بڑے شور شرابے کے ختم ہو گیا، جس پر حکومتی

Iran Wahlen Reaktionen Demonstration Mir Hossein Mussawi Anhänger in Teheran

گزشتہ سال صدارتی الیکشن کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں سے ایک کے شرکاء: فائل فوٹو

منتظمین نے اطمینان کا سانس لیا۔ وزارت داخلہ نے اصلاحات پسندوں کی جانب سے پُر امن ریلی نکالنے کی درخواست پہلے ہی مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد مرکزی اپوزیشن لیڈروں نے اپنے حامیوں کو گھروں تک محدود رہنےکی تلقین کی تھی۔ پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر رضا فرزانہ نے پہلے ہی اپوزیشن کو متنبہ کر دیا تھا کہ کسی بھی قسم کے سلامتی کے رسک کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جائے گا۔ اس کے باوجود تہران کی دو یونیورسٹیوں کے کیمپسوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تہران یونیورسٹی اور شریف یونیورسٹی میں حکومت مخالف مظاہرے کئے گئے تھے۔ ان مظاہروں کی اطلاعات ایرانی اپوزیشن لیڈران کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے۔ طلبہ نے ان کیمپسوں کی چھتوں پر چڑھ کر بھی نعرہ بازی کی۔ تہران کے مرکزی ولی عصر چوک میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔ ایران سے باہر صرف جاپانی شہر ٹوکیو میں ایرانیوں نے سفارت خانے کے سامنے صدائے احنجاج بلند کی اور متنازعہ صدارتی الیکشن کے بعد پُر تشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کو یاد کیا۔

بارہ جون کی آمد پر ایرانی حکومت نے اصلاحات پسندوں کی حامی ویب سائٹس کو بلاک کر دیا تھا۔ ایک درجن سے زائد چھپے ہوئے مواد یا پبلیکیشنز کو قبضے میں کرنے کو بھی رپورٹ کیا گیا ہے۔ پانچ جون سے حکومت کے

Bild-Galerie Exil-Iraner in Paris

صدارتی الیکشن کے بعد مظاہروں پر حکومتی کارروائی کے خلاف پیرس میں ہونے والا احتجاج: فائل فوٹو

داخلہ امور کے کارندے چوکسی سے اپوزیشن لیڈروں اور ان کے حامیوں کے پیچھے تھے۔ نوبل امن انعام یافتہ شیرین عبادی کی قریبی رفیق نرگس محمدی کو پولیس نے گزشتہ منگل کو حراست میں لے لیا تھا۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گرفتار ہونے والوں میں صحافی، طالب علم اور انسانی حقوق اور اصلاحات پسندوں کے سرگرم کارکن بھی شامل ہیں۔

گزشتہ سال کے ایک صدارتی امیدوار میر حسین موسوی نے اپنی ویب سائٹ پر تحریر کیا ہے کہ ان کی تحریک زندہ ہے لیکن ان کی مہم ان کے عملی شرکت نہ کر سکنے کی وجہ سے مدھم پڑتی جا رہی ہے ۔ اس کا احساس ایرانی عوام کو بھی ہے۔ اس مناسبت سے ایران کے طول وعرض میں اصلاحات پسندوں کے حامیوں کی جانب سے شکوہ و شکایت اب لیڈران تک بھی پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM