1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متنازعہ امریکی پادری کی برطانیہ آمد پر پابندی

برطانیہ نے امریکی پادری ٹیری جونز کی اپنے ہاں آمد پر پابندی لگا دی ہے۔ برطانوی حکومت کے مطاب‍ق ٹیری جونزکی جانب سے قرآن نذر آتش کرنے کی دھمکی دینا انتہائی غیرمناسب رویہ تھا، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

default

ٹیری جونز گزشتہ برس اس وقت متنازعہ بن گئے تھے، جب انہوں نے گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی مقدس کتاب کو نذز آتش کرنے کی دھمکی دی تھی۔ برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق لندن حکومت ہر قسم کی انتہاپسندی کی مخالفت کرتی ہے اور اسی وجہ سے اس متنازعہ پادری کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ پادری ٹیری جونز کے بہت سے ایسے بیانات ہیں، جن سے ان کی انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

Jones Koran-Verbrennung

ٹیری جونز نے گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی مقدس کتاب کو نذز آتش کرنے کی دھمکی دی تھی

لندن میں وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ برطانیہ آنا ایک رعایت ہے نہ کہ کسی کا حق اور ’’کسی بھی ایسے شخص کو برطانیہ آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کی موجودگی عوامی مفاد میں نہ ہو۔‘‘

برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروپ انگلش ڈیفنس لیگ نے ٹیری جونز کو اس دورے کی دعوت دی تھی۔ اس دوران انہیں اس انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروپ کی ایک ریلی سے خطاب بھی کرنا تھا، جسے پانچ فروری کو لیوٹن میں منقعد ہونا ہے۔ انگلش ڈیفنس لیگ نے اسکائی چینل کو بتایا کہ اسے حکومت کے اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی ہے اوراس لیگ کے رہنما امید کرتے ہیں کہ حکومت اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اس پابندی کوختم کر دے گی۔ انگلش ڈیفنس لیگ کا موقف ہے کہ وہ برطانیہ میں مسلم انتہا پسندی کے خلاف کام کر رہی ہے۔

ٹیری جرنز نے اپنے ابتدائی ردعمل میں کہا ہے کہ وہ فروری میں برطانیہ جانے اوراس پابندی کو ختم کرانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ اس متنازعہ بن جانے والے امریکی پادری نے مزید کہا کہ وہ اسلام مخالف نہیں ہیں اور ان کا یہ دورہ نجی نوعیت کا ہے۔ ان کے بقول وہ برطانیہ میں مقیم اپنی بیٹی سے ملنا چاہتے ہیں۔ ٹیری جونز کے بقول وہ نہ تو اسلام اور نہ ہی مسلمانوں کے خلاف ہیں بلکہ انہوں نے ’صرف انتہا پسند عناصر کو نشانہ‘ بنایا ہے۔

Reaktionen zu Terry Jones' Koran-Plänen

ٹیری جونز کی دھمکی کے بعد مسلم دنیا میں زبردست مظاہرے کئے گئے تھے

ٹیری جونز کی برطانیہ آمد کی خبر سنتے ہیں انتہاپسندی کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں نے اس متنازعہ امریکی پادری کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹیری جونز فلوریڈا میں قائم ایک چرچ کے پادری ہیں۔ ان کے فرقے Dove World Outreach Centre کا مرکز بھی فلوریڈا ہی میں ہے اوراس کے اراکین کی کل تعداد پچاس بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس