متعدد علماء گرفتار، 350 پر پابندی، گیارہ سو کا داخلہ ممنوع | حالات حاضرہ | DW | 24.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متعدد علماء گرفتار، 350 پر پابندی، گیارہ سو کا داخلہ ممنوع

پاکستان میں سلامتی کے خدشات کے سبب سخت ترین حفاظتی انتظامات میں یومِ عاشور منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں موبائل فون اور نٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

یومِ عاشور سے قبل صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور سندھ کے شہر جیکب آباد میں دو بم حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت تیس سے زائد افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے تھے۔ ملک بھر میں امام بارگاہوں سے عاشورہ کے موقع پر تعزیے ، علم اور شبیہ زوالجناح کے جلوس اور واقعہ کربلا کی یاد میں ماتمی تابوت برآمد کیے گئے۔ ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں عزاداروں نے ان ماتمی جلوسوں میں شرکت کی، جس کے دوران شرکاء نے مجالس میں حصہ لینےکے ساتھ نوحہ خوانی اور زنجیر زنی بھی کی۔ اس موقع پر صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کی سکیورٹی کے لئے پولیس کے دس ہزار اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور شہر کے ساتھ ساتھ جلوس کے داخلی اور خارجی راستوں کو کنٹینرز رکھ کر سیل کر دیا گیا تھا۔ جلوس میں شرکت کے لئے آنے والوں کی جامہ تلاشی بھی لی جاتی رہی اور اس مقصد کے لئے مردوں اور خواتین کے لئے الگ الگ انتظامات کیے گئے تھے۔

ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی فخر سلطان کا کہنا تھا کہ شہر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پولیس پوری طرح الرٹ ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہمیں رینجرز کی معاونت بھی حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں رضاکار بھی سکیورٹی کی ڈیوٹی کر رہے ہیں اور امید ہے کہ یہ عاشورہ کا جلوس بخریت اپنی منزل طے کر لے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جلوس کے ہر داخلی اور خارجی راستے پر جامہ تلاشی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی سیکنرز بھی نصب کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ملک کے تمام بڑے شہروں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل رکھنے کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے خدشے کے تحت مختلف مسالک کے متعدد علماء کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ گیارہ سو سے زائد مذہبی رہنماؤں کا محرم کے دوران پنجاب میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے جبکہ تین سو پچاس علماء پر اجتماعات میں خطابات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

تاہم حکومت کی جانب سے سخت سکیورٹی انتطامات کرنے کے دعوؤں کے باجود شیعہ تنظیموں کی جانب سے حفاظتی انتظامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مجلس وحدت المسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ سڑکوں کو کنٹینر رکھ کر بلاک کر دینے کا مطلب سکیورٹی کے سخت انتظامات نہیں ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’مختلف شہروں میں انتظامیہ کی طرف سے ماتمی جلوسوں کی جانب آنے والے راستوں کو کئی کئی کلو میٹر دور سے ہی کنٹینر رکھ کر سیل کر دیا گیا ہے تاکہ عزاداروں کا راستہ روکا جا سکے اور جلوسوں میں لوگوں کی حاضری کم رہے۔ یہ کونسی سکیورٹی ہے کہ آپ دہشت گردوں کا راستہ تو نہ روک سکیں لیکن عام لوگوں کو سکیورٹی کے نام پر تنگ کریں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حکومت سکیورٹی کے نمائشی اقدامات نہ کرتی تو کوئٹہ اور جیکب آباد میں معصوم لوگوں کی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے حکام کی جانب سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں میں ملوث کالعدم جماعت لشکر جھنگوی کی قیادت کے خاتمے کے دعوؤں پر رد عمل میں کہا کہ جب تک دہشت گردانہ حملے نہیں رکتے، کسی کو خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے یوم عاشور کے موقع پر ہفتے کے روز جیکب آباد کا دورہ کیا۔ پولیس حکام اور ضلع انتظامیہ کے افسران نے انہیں دھماکے سے معلق بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ نے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لئے بیس لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیکب آباد دھماکےمیں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔