1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

متحدہ عرب امارات میں'بلیک بیری' سروسز پر پابندی

متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی نے کہا ہے کہ 11 اکتوبر سے بلیک بیری نامی سمارٹ فون کی سروسز معطل کردی جائے گی۔ اس کی وجہ ملکی سلامتی کو درپیش خطرات بتائے جاتے ہیں۔

default

یو اے ای کی ٹیلی کیمیونیکیشن اتھارٹی 'TRA' کے مطابق بلیک بیری فون کے ذریعے بھیجا جانے والا تمام تر ڈیٹا فی الفور بیرون ملک چلا جاتا ہے، جہاں اس ڈیٹا کو ایک غیر ملکی تجارتی کمپنی کنٹرول کرتی ہے۔ اس ڈیٹا میں ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کا استعمال شامل ہے۔ چونکہ TRA کواس ڈیٹا تک کسی قسم کی رسائی حاصل نہیں ہوتی لہذا اس کے خیال میں یہ بات ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد الغنیم کے مطابق بلیک بیری کی سروسز اس وقت تک معطل رہیں گی جب تک سیکیورٹی خدشات سے متعلق مسائل کا قابل قبول حل تلاش نہیں کرلیا جاتا۔ اس سلسلے میں ان کا مزید کہنا ہے، ’’یہ فیصلہ حتمی ہے تاہم اس سلسلے میں کمپنی سے بات چیت جاری ہے۔‘‘ محمد الغنیم کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا تعلق سینسر شپ سے نہیں ہے بلکہ جن سروسز کی معطلی کی بات کی جارہی ہے وہ متحدہ عرب امارات کے ٹیلی کمیونیکشن قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق چونکہ سروسز کی اس طرح فراہمی صرف بلیک بیری کے ذریعے ہی کی جارہی ہیں اس لئے اس فیصلے سے دیگر سمارٹ فون سروسز متاثر نہیں ہونگی جن میں نوکیا اور ایپل کمپنی کے سمارٹ فونز شامل ہیں۔

Handymesse in Barcelona

TRA کے مطابق بلیک بیری کے ذریعے بھیجا جانے والا تمام تر ڈیٹا فی الفور بیرون ملک چلا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے پچھلے ہفتے اعتراض کیا گیا تھا کہ بلیک بیری کو ایسے مقاصد کے لئے استعمال کیاجاسکتا ہے جو ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہوسکتے ہیں۔ تاہم میڈیا کی آزادی پر نظر رکھنے والی تنظیم 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت بلیک بیری سروسز خاص طور ایس ایم ایس سروس کو سینسر شپ اور کڑی نگرانی سے متعلق اپنے مقاصد کے حصول میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بلیک بیری صارفین کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔

بلیک بیری تیار کرنے والی کینیڈا کی کمپنی ریسرچ ان موشن 'RIM'کی طرف سے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم اس کمپنی نے گزشتہ برس کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں ٹیلی کمیونیکشن سروسز فراہم کرنے والی ملکی کمپنی اتصلات نے ’اپ ڈیٹ‘ کے نام پر ٹیلی کمیونیکیشن نگرانی کا ایک سافٹ ویئر تمام بلیک بیری صارفین کو بھیجا تھا۔ اس کے بعد بلیک بیری نے اپنا ایک اپ ڈیٹ بھی جاری کیا تھا جس کی مدد سے صارفین پرانے اپ ڈیٹ کو ختم کر سکتے تھے۔

بلیک بیری سروسز پر بحرین حکومت کی طرف سے رواں برس اپریل میں اعتراض اٹھایا گیا تھا، جبکہ گزشتہ ہفتے بھارت کی طرف سے سیکیورٹی خدشات پر گزشتہ ہفتے ہی RIM سے رابطہ کیا گیا ہے۔ بھارت کی داخلی سلامتی کے سربراہ یوکے بنسال نے میڈیا کو بتایا تھا کہ کینیڈا کی اس کمپنی نے کہا ہے کہ ان تحفظات کے حل کے لئے جلد ہی اقدامات کئے جائیں گے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس