1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

متبادل نوبل انعام: ایتھوپیا اور آذربائیجان کی خواتین کے لیے

انعام حاصل کرنے والوں میں ایک ایتھوپیا کی نابینا خاتون وکیل ہے، جسے معاشرتی ناپسندیدگی کا سامنا رہا ہے۔ یہ انعام مشترکہ طور پر آذربائیجان کی خاتون کو بھی دیا گیا، جو حکومتی کرپشن کے خلاف سرگرم ہیں۔

افریقی ملک ایتھوپیا کی نابینا خاتون یتنی برش نیگوسی اُن تین افراد میں شامل ہیں، جنہیں رواں برس کا رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ اس ایوارڈ کو متبادل نوبل انعام بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ بھی نوبل انعام کی طرح سویڈن میں قائم رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے سن 1980 سے دیا جا رہا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اس ایوارڈ کا یا فاؤنڈیشن کا نوبل انعام دینے والی کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شامی شہری دفاع کے رضاکاروں کے لیے ’متبادل نوبل‘ انعام

متبادل نوبل انعامات کا اعلان

عاصمہ جہانگیر آج ’متبادل نوبل‘ انعام وصول کر رہی ہیں

شمسی توانائی: چینی شخصیت کے لیے متبادل نوبل انعام

یتنی برش نیگوسی کو بچپن میں ایک ایسے بخار نے اپنی گرفت میں لے لیا تھا جس کے اثرات کے نتیجے میں اُن کی بینائی بتدریج ختم ہوتی گئی اور انجام کار وہ پوری طرح نابینا ہو کر رہ گئیں۔ بچپن میں اُن کی والدہ کی دوست اور دوسرے افراد نیگوسی کے مرنے کی دعائیں کیا کرتے تھے۔

معاشرتی جبر کے نتیجے میں نیگوسی کو اُن کے والدین نے دارالحکومت ادیس آبابا میں ایک کیتھولک بورڈنگ اسکول میں داخل کرا دیا۔ اس اسکول نے نیگوسی کی زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اسی اسکول میں گاؤں کی نابینا لڑکی کو تعلیم دینے کا سلسلہ شروع ہوا اور آج 35 سالہ نیگوسی ایک غیرسرکاری تنظیم ایتھوپین سینٹر برائے معذوری و ترقی کی نگران ہیں۔ وہ ادیس آبابا ہی میں مقیم ہیں۔

Khadija Ismayilwa (Getty Images/IWMF/C. Gallay)

آذربائیجان کی خدیجہ اسماعیلوفا

یتنی برش نیگوسی ادیس آبابا یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں۔ وہ اس وقت اپنے ملک میں معذور افراد کے حقوق کی مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بینا لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کرتی ہیں کہ اُن کو ایک محرومی کا سامنا ہے لیکن ننانوے صلاحیتیں رکھتی ہیں۔

Colin Gonsalves (Getty Images/Center for Reproductive Rights/I.S. Savenok)

بھارتی سپریم کورٹ سے متسلک سینیئر وکیل کولن گونسالویز انسانی حقوق کے بھی سرگرم کارکن ہیں

رواں برس کا متبادل نوبل انعام حاصل کرنے والوں میں ایک بھارتی انسانی حقوق کے وکیل کولن گونسالویز اور وسطی ایشیائی ملک آذربائیجان کی خدیجہ اسماعیلوفا شامل ہیں۔ اسماعیلوفا کو یہ انعام حکومتی سیکٹر میں پائی جانے والی کرپشن کو بے نقاب کرنے کے اعتراف میں دیا گیا۔

DW.COM