1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متاثرین سیلاب میں ،امدادی رقوم کی تقسیم شروع

دنیا بھرسے پاکستان کو ملنے والی امداد اب نقدی شکل میں بھی سیلاب سے متاثرہ لوگوں تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔ جنوبی پنجاب میں متاثرین سیلاب کو سوموار کے روز وطن کارڈز کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

default

متاثرین سیلاب کیلئے بنائے گئے ان خصوصی کارڈز کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ لوگ ایک لاکھ روپے بنکوں سے حاصل کر سکیں گے۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے مظفر گڑھ کے نواحی علاقے روھیلا نوالی میں وطن کارڈز کی تقسیم کیلئے بنائے جانے والے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مقامی دفتر کا افتتاح کرنے کے بعد ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وطن کارڈز کے ذریعے دو لاکھ سے زائد متاثرہ خاندانوں کو ایک لاکھ روپے فی خاندان ادا کئے جائیں گے۔

Pakistan Flut NO FLASH

وطن کارڈز کے ذریعے دو لاکھ سے زائد متاثرہ خاندانوں کو ایک لاکھ روپے فی خاندان ادا کئے جائیں گے

ابتدائی طور پر ان کارڈز کے ذریعے ہر متاثرہ خاندان کو بیس ہزار روپے دئے جا رہے ہیں۔ گورنر پنجاب کے مطابق متاثرین کو مالی امداد کی فراہمی سے متاثرہ علاقوں میں اقتصادی خوشحالی آئے گی۔

سیلاب سے متاثرہ رحمت نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ اسے ابھی تک یقین نہیں آ رہا ہے کہ اسے جلد ایک لاکھ روپے ملنے والے ہیں۔ نادرا کے چیف آپریٹنگ آفیسر برگیڈئیرزاہد نے بتایا کہ نادرا نے امدادی رقوم کی شفاف طریقے سے ادائیگی کیلئے جنوبی پنجاب میں اٹھارہ مراکز قائم کر دئے ہیں۔ ان کے مطابق نادرا پہلے بھی اربوں روپے سوات کے متاثرین میں کامیابی سے تقسیم کر چکا ہے۔

اگرچہ بیشترمتاثرین امدادی رقوم کی تقسیم کے حوالے سے مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔

Salman Taseer

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے مظفر گڑھ کے نواحی علاقے میں وطن کارڈز کی تقسیم کے دفتر کا افتتاح کیا

لیکن روھیلا نوالی کے رانا محمد عارف نامی ایک شخص نے بتایا کہ محکمہ مال کا عملہ امدادی کاغذات کی تیاری کیلئے رشوت مانگتا ہے۔ ادھر پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما ارشاد احمد سیال کا کہنا ہے کہ محکمہ مال کا عملہ پنجاب حکومت کے ما تحت ہے اور اس پر نظر رکھنا پنجاب حکومت کا فرض ہے۔

پنجاب حکومت کے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے مطابق اب تک ڈیڑھ ہزار سے زائد وطن کارڈز تقسیم کئے جا چکے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ عمل اگلے چار ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

رپورٹ :تنویر شہزاد

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM