1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’متاثرہ مائیں ابھی تک نیند آور ادویات لے رہی ہیں‘

آرمی پبلک سکول پر حملے کو تقریباﹰ ایک برس مکمل ہو گیا ہے۔ لیکن متاثرہ بچوں کے والدین کے ذہنوں میں ابھی تک درجنوں ایسے سوالات گردش کر رہے ہیں، جن کا حکومت اور سکیورٹی اداروں سمیت کوئی بھی جواب دینے کے لیے تیار نہیں۔

حکومت کی طرف سے زخمی بچوں کے لیے علاج کی سہولیات تو فراہم کی گئیں لیکن حملے کے ذمہ دار آج بھی حکومتی گرفت میں نہیں آ سکے اور یہ بات والدین کے لیے بھی تکلیف دہ ہے۔ گزشتہ ایک برس کے دوران حکومت نے ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کے والدین کو مالی امداد کے ساتھ ساتھ علاج کی سہولیات بھی فراہم کیں لیکن زیادہ تر والدین ان اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بناکر اس کی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلا ف کارروائی کی جائے۔ متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ نہ تو حکومت اس واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکی اور نہ ہی بچوں کو قومی اعزاز دیے گئے، ہلاک ہونے والے بچوں کے نام پر نہ تو کسی یونیورسٹی اور نہ ہی کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے کا نام رکھا گیا۔

حکومتی اداروں کی اس ’سرد مہری‘ نے والدین کو مایوس کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کئی والدین نے اس دوران ’اے پی ایس کے شہدا‘ کے نام سے ہونے والی تمام سرکاری تقریبات سے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈوئچے ویلے نے جب اس سلسلے میں ’شہدا فورم‘ کے صدر فضل خان ایڈوکیٹ سے بات کی تو ان کا کہنا تھا، ’’جن چار لوگوں کو سزا دی گئی، ہم اس سے مطمئن نہیں۔ یہ کون لوگ تھے ؟ براہ راست ملوث تھے یا سہولت کار تھے؟ ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس میں مرنے والے بچوں کے نام یا تعداد بتائی گئی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے بارے میں حکومتی موقف میں بھی تضاد ہے اور آج تک سکول کی سکیورٹی کے ذمہ داروں کا تعین بھی نہیں ہو سکا، ’’اس واقعے سے چند ماہ قبل سکیورٹی میں کمی کیوں کی گئی؟ سکول کی سکیورٹی کے ذمہ داروں سے پوچھ گچھ نہیں کی گئی اور والدین کو ان تمام سوالات کے جواب چاہیں۔‘‘

اس واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں اور چشم دید گواہ ابھی تک اس بھیانک خواب سے نہیں نکل سکے۔ واقعے کے چشم دید گواہ طالب علم ذکریا اعجاز نے اپنے تا‌ثرات کچھ اس طرح بیان کئے، ’’ہم معمول کی پڑھائی میں مصروف تھے کہ پرنسپل نے پیغام بیھجا کہ باہر نکلیں، ہم محفوظ ایریا میں تھے، فائرنگ کی آواز سنی اور ساتھ ہی دھماکے شروع ہو گئے۔ ہمیں سجمھ نہیں آیا کہ کیا ہو رہا ہے لیکن چند گھنٹے بعد اپنے ساتھیوں کی لاشیں دیکھیں، میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ اس دن کالج میں سیکنڈ ایئر کا پرچہ تھا۔ زیادہ تر طلبا آڈیٹوریم میں تھے اور جب میں اپنے والد سے ملا اور پتہ چلا کہ میرا بھائی بھی اس میں شہید ہوا ہے تو پھر مجھے ہوش نہیں رہا۔‘‘

ذکریا کا کہنا تھا کہ اس سانحے کی وجہ سے طلبا اور اساتذہ ابھی تک ڈیپرس ہیں اور اس چیز نے پڑھائی کو بھی متاثر کیا ہے اور ہم سب اس سانحے کو بھلا نہیں سکے۔‘‘

ایک سال گزرنے کے بعد بھی یہ بچے اور ان کے والدین کے دکھوں میں کمی نہیں آئی۔ ہلاک ہونے والے شہزاد اعجاز کے والد میاں اعجاز احمد کا کہنا تھا، ’’خود اپنے جواں سال بچے کو نہلایا تھا، اس کے جسم میں گیارہ گولیاں لگی تھیں، یہ کس طرح بھول سکتا ہوں۔ یہ غم ہم قبر تک لے کر جائیں گے۔ حکومت اس میں ملوث افراد کو بڑی آرام سے موت دے رہی ہے۔ میرا بیٹا گیارہ گولیاں کھا کے کس طرح مرا ہوگا؟ مجھے اس کا گناہ بتایا جائے۔‘‘

جب اس سلسلے میں سائکاٹرسٹ ڈاکٹر عرفان اللہ خان سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا، ’’پچاس فیصد بچے ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل سکے جبکہ والدین میں ان بچوں کی زیادہ تر مائیں اب بھی خواب آور ادویات کا استعمال کرتی ہیں۔‘‘

جب ماؤں کی بات آتی ہے تو ڈوئچے ویلے نے شہید مبین شاہ کی والدہ سے بات کی جن کا کہنا تھا، ’’مبین شاہ آفرید ی میرا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس نیت سے آرمی پبلک سکول میں داخل کروایا کہ حساس علاقے میں موجود فوج کی نگرانی میں میرا بیٹا بھی محفوظ رہے گا لیکن دہشت گرد وہاں بھی پہنچ گئے اور میرے بیٹے کو مجھ سے چھین لیا۔ اب بھی عقل تسلیم نہیں کرتی کہ اس قدر محفوظ علاقے میں چند لوگ کیسے داخل ہوئے اور کس طرح قتل عام کیا؟ ایک سال میں حکومت ہمیں یہ نہیں بتا سکی۔‘‘

آرمی پبلک سکول کے متاثرہ والدین کے مابین بھی اختلافات پیدا ہوئے ہیں اور یہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں لیکن دونوں کے مطالبات ایک جیسے ہیں۔ اسی طرح کے ’آرمی پبلک سکول شہدا فورم‘ کے صدر اور سیکرٹری جنرل عابد رضا بنگش کا کہنا تھا، ’’اکتوبر میں انتظامیہ کو اس طرح کے واقعے کی اطلاع دی گئی لیکن پھر بھی سکیورٹی بہتر نہ ہوسکی۔ خو د پولیس کے سربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ واقعہ پولیس کی غفلت کا نتیجہ تھا لیکن کسی کو سزا نہیں ہوسکی۔ اگر سولہ دسمبر تک حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو شہدا پیکج سمیت تمغے اور ایوارڈ بھی واپس کریں گے۔‘‘

اسی فورم کے ڈاکٹر ظہور عالم کا کہنا تھا کہ سکول انتظامیہ کے دو اہلکاروں کو ستارہ جرات دیا گیا جبکہ بائیس اہلکاروں میں شہدا پیکج تقسیم کیا گیا یہ امتیازی سلوک کیو‌ں کیا جارہا ہے؟‘‘

صوبائی حکومت یونیورسٹی کے قیام، شہدا کے نام پر یادگاریں تعمیر کرنے اور کئی دیگر وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ترجمان اور مشیر برائے اطلاعات، سینئر صوبائی وزیر، وزیر قانون اور کئی ارکان اسمبلی سے کئی بار ان کا موقف جانے کی کوشیش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہ ہوسکا لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کی روشنی میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں چھپن فیصد کمی آئی ہے۔

سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران ایک لاکھ پینتالیس ہزار مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا لیکن اپوزیشن آرمی پبلک سکول کے حملے کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’کینٹ کے حساس علاقے میں رونما ہونے والے اس واقعے کی تمام تر ذمہ داری صوبائی اور وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے کے پاس وسائل کی کمی نہیں رہی لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت ڈیڑھ سو شہدا کے مطالبے پورے نہیں کر سکی اور نہ ہی انہیں بہتر علاج کی سہولت دی گئی۔ ہم شہدا کے والدین کے اس مطالبے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بناکر انکوائری کی جائے اور اسی بنیاد پر ایف آئی آر درج کر کے ملوث افراد اور سہولت کاروں کو سزا دی جائے۔ ‘‘