1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

متاثرہ علاقہ اب ممنوعہ زون: فوکوشیما پاور پلانٹ

جاپانی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ فوکوشیما کے ایٹمی پلانٹ کے ارد گرد بیس کلومیٹر کے علاقے میں لوگوں کے داخلے پر پابندی لگا دی جائے گی۔

default

جاپان میں گیارہ مارچ کو آنے والے تباہ کن زلزلے اور سونامی لہروں کے بعد فوکوشیما کے اس ایٹمی بجلی گھر کے کئی ری ایکٹروں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ پھر ٹوکیو سے شمال کی طرف واقع اس نیوکلیئر پاور پلانٹ سے بہت بڑی مقدار میں تابکاری عناصر کا اخراج بھی شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے اس بجلی گھر کے چاروں طرف پہلے دس اور پھر بیس کلومیٹر کے علاقے میں رہنے والے عام شہریوں کو وہاں سے نکال لیا تھا۔

اب اس تباہ شدہ جوہری بجلی گھر سے تابکاری مادے کے اخراج کے کئی ہفتوں بعد ٹوکیو حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس علاقے کو عام شہریوں کے لیے ممنوعہ قرار دے دیا جائے گا۔ اس ایٹمی جوہری بجلی گھر کو چلانے والی کمپنی کا نام ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی ہے۔ اس حادثے کے بعد علاقے میں رہنے والے ہزار ہا شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف منتقلی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

NO FLASH Japan Atomkraftwerk Fukushima Rauch 21.03.2011

فوکوشیما کے ایٹمی پلانٹ کے ارد گرد بیس کلومیٹر کے علاقے میں لوگوں کے داخلے پر پابندی لگا دی جائے گی

اب جاپانی حکومت کو اس علاقے میں شہریوں کے داخلے پر پابندی کا اعلان اس لیے کرنا پڑا کہ وہاں سے نقل مکانی کرنے والے کئی شہریوں نے اپنی قیمتی املاک کی حفاظت کے لیے واپس اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا تھا۔ اس بارے میں جاپانی کابینہ کے چیف سیکریٹری یوکیو ایڈانو نے ٹوکیو میں صحافیوں کو بتایا کہ اس پابندی کا نفاذ مقامی وقت کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جمرات کو رات بارہ بجے کے بعد عام شہریوں کو صرف حکومتی اہلکاروں کی نگرانی میں ہی اس علاقے میں جانے کی اجازت ہو گی۔

Japan Regierungssprecher Yukio Edano

جاپانی کابینہ کے چیف سیکریٹری یوکیو ایڈانو

یوکیو ایڈانو نے کہا کہ اس علاقے میں ’نو انٹری’ زون کے قیام کا مقصد عام شہریوں کی سلامتی اور حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جو شہری تابکاری سے متاثرہ اس ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

فوکوشیما کے ایٹمی بجلی گھر کو گزشتہ ماہ آنے والے بہت طاقتور زلزلے اور بہت اونچی سونامی لہروں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس دوران اس پاورپلانٹ کے متعدد ری ایکٹروں میں دھماکے بھی ہوئے تھے اور انہیں آگ بھی لگ گئی تھی۔ ایٹمی توانائی اور نیوکلیئر تنصیبات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فوکوشیما کا ایٹمی حادثہ پچیس سال پہلے پیش آنے والے چرنوبل کے ایٹمی حادثے کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا حادثہ ہے۔

اسی دوران اس پاور پلانٹ کو چلانے والی کمپنی ٹیپکو نے کہا ہے کہ فوکوشیما کے اس جوہری بجلی گھر میں صورت حال کو دوبارہ قابو میں لانے میں اس سال کا باقی حصہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا۔ ٹیپکو اس پلانٹ کو ٹھنڈا کر کے بند کرنا چاہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ‘کولڈ شٹ ڈاؤن‘ میں چھ سے نو ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اتنے عرصے میں بھی یہ ہدف حاصل کر لینا کافی مشکل ہو گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت:عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس