1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مبینہ نیٹو حملہ: امریکی حکام کا اظہار افسوس

امریکی حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے ہفتے کے روز افغان سرحد کے قریب نیٹو فضائیہ کی مبینہ کارروائی کے نتیجے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

default

پاکستان نے افغانستان میں نیٹو دستوں کی رسد روک دی ہے

پاکستان نے اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ہفتے کے روز اسلام آباد میں امریکی سفارت کار سے احتجاج کیا تھا۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک اعلٰ سطحی اجلاس میں امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تمام تر تعلقات پر نظر ثانی کا عندیہ دیا تھا۔ پاکستان نے افغانستان میں نیٹو کے لیے رسد بھی روک دی ہے۔

امریکی حکام نے نیٹو فورسز کی مبینہ فضائی کارروائی میں افغان سرحد کے قریب پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر ’’گہرے دُکھ‘‘ کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور وزیر دفاع لیون پینیٹا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اس کارروائی کے حوالے سے نیٹو کی تحقیقات کے ارادے کی حمایت کرتے ہیں۔ ان امریکی حکام نے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی اہمیت پر زور بھی دیا۔

NO FLASH Forbes Liste Die mächtigsten Frauen der Welt

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس واقعے کی تحقیقات پر زور دیا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس واقعے کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن اور امریکی افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے فون پر بات چیت بھی کی ہے۔

قبل ازیں افغانستان میں تعینات آئسیف کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس بات کا ’’قوی امکان‘‘ ہے کہ یہ حملہ نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے ہی کیا ہو۔ نیٹو نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔

نیٹو کی مبینہ کارروائی کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے بلا اشتعال پاکستانی فوجی چوکی پر حملہ کیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ انٹیلیجنس کی غلطی کی بنا پر ہوا۔

 اس مبینہ حملے کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ کے پہلے ہی سے کشیدہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM