1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مبینہ دہشت گرد عابد نصیربرطانیہ میں دوبارہ گرفتار

برطانوی حکام نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبے میں عابد نصیرنامی ایک پاکستانی باشندے کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔ قبل ازیں اسے گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

default

برطانوی تحقیقاتی ادارے سکارٹ لینڈ یارڈ نے بتایا ہے کہ امریکہ کی طرف سے عابد نصیر کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد اسے پھر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

چوبیس سالہ ملزم عابد نصیر کو ملک بدر کر کے امریکہ کے حوالے کرنے سے متعلق ایک عدالتی سماعت کے دوران امریکی حکومت کی ایک خاتون وکیل نے کہا کہ یہ ملزم القاعدہ نیٹ ورک کا رکن ہے، جو امریکہ اور برطانیہ میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں شریک رہا ہے۔ عابد نصیر کے خلاف امریکی حکام کی طرف سے وارنٹ جاری کئے جانے کے بعد برطانیہ میں حکام نے اسے بدھ کی رات شمال مشرقی انگلینڈ سے گرفتار کیا۔

امریکی حکومت کی خاتون وکیل Melanie Cumberland نے بدھ کی شب ایک خصوصی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ عابد نصیر دہشت گردوں کا ایک اہم ساتھی ہے۔ لندن میں ویسٹ منسٹر کی ایک عدالت میں بحث کرتے ہوئے کمبرلینڈ نے کہا کہ یہ ملزم پاکستان میں روپوش القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔

امریکی حکومت کی وکیل نے کہا کہ ستمبر سن 2008ء میں یہ ملزم مبینہ طور پر پاکستان گیا تھا اور قریب دو ماہ وہاں مقیم رہا تھا۔ ان کے بقول برطانیہ واپسی پر عابد نصیر نے احمد نامی ایک پاکستانی سے رابطے کئے، جو دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا ایک رکن ہے۔

Großbritannien Terror Prozess in London Polizisten

لندن میں ویسٹ منسٹر کی کراؤن کورٹ میں عابد نصیر کو امریکہ منتقل کرنے کے لئے خصوصی سماعت کی گئی

برطانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حکام نے عابد نصیر کو اس کے خلاف عدالتی کارروائی کے لئے امریکہ کے حوالے کرنے کی درخواست کی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عابد نصیر نے گزشتہ سال نیویارک میں ایک زیر زمین ریلوے سٹیشن پر دہشت گردانہ حملے کے بعد میں ناکام رہنے والے منصوبے کے لئے مالی وسائل مہیا کئے تھے۔

اس پاکستانی باشندے کو پہلی مرتبہ گزشتہ سال ان گیارہ افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، جن پر انگلینڈ میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ تب برطانیہ میں عابد نصیر کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا تھا۔

حال ہی میں عابد نصیرنے برطانیہ کی امیگریشن عدالت میں ایک مقدمہ بھی جیت لیا تھا، جس کے بعد اسے برطانیہ میں قیام کی اجازت مل گئی تھی۔ عابد نصیر کا مؤقف تھا کہ اگر اسے ملک بدر کر کے پاکستان بھیجا گیا تو وہاں اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM