1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مبینہ دہشت گردوں پر تشدد کے مقدمات کی سماعت دربارہ شروع کی جائے، امریکی محکمہء انصاف

امریکی محکمہء انصاف نے ملکی جیلوں میں زیرحراست مبینہ دہشت گروں پر حساس ادارے سی آئی اے کی جانب سے تشدد کے مختلف طریقے آزمانے کے تقریبا ایک درجن کیسز کی سماعت دوبار شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔

default

سی آئی پر امریکی فوجی جیلوں میں قید مبینہ دہشت گروں ہر تشدد کرنے کا الزام ہے

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے طریقہ تفتیش پر پہلی مرتبہ اس وقت تنازعہ کھڑ ا ہوا جب 2004 ء میں ادارے کے اندر ہی اس پر ایک رپورٹ سامنے آئی جس کا سنسر شدہ مواد ایک سال بعد منظرعام پر آیا۔ اب سی آئی اے ایک مرتبہ پھر اپنے تفتیشی طریقہء کار کے حوالے سے خبروں میں ہے۔ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مذکورہ مقدمات کو سابق صدر جارج بش کے دورِ حکومت میں بے بنیاد قرار دے کر بند کردیا گیا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ امریکی محکمہء انصاف مذکورہ مقدمات کے حوالے سے اپنی سفارشات کی تفصیلات آج پیر کے روز اٹارنی جنرل کو جمع کروائے گا۔ اخبار کے مطابق محکمہء انصاف اُن تمام حقائق کو اٹارنی جنرل کے سامنے رکھنا چاہتا ہے جو سی آئی اے کے انسپکٹر جنرل کی 2004 ء میں کی گئی تفتیش کے دوران سامنے آئے تھے۔ تاہم اُن اہم تفصیلات کو بش حکومت کے دوران یہ کہہ کر منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا کہ اِن سے ایسا کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکتا۔

BdT Nachstellung eines Guantanamo Gefangenen am Tag gegen die Folter der UNO London Großbritannien

انسانی حقوق کی نامور تنظیمیں سی آئی اے کے تفتیشی طریقوں سے مطمئن نہیں ہیں

نیو یارک ٹائمز کی اس رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ان مقدمات کے دوبارہ کُھلنے سے سی آئی اے ایک بار پھر دباؤ میں آجائے گی۔ ساتھ ہی واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی انتظامیہ پر سخت گیر رویوں کے حامل ری پبلیکن سیاست دانوں کے طرف سے کڑی تنقید بھی متوقع ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اوباما انتظامیہ ان دنوں ملک میں صحت کے شعبے کو بہتر بنانے، دنیا بھرمیں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو قابو میں کرنے اور مسلمان ممالک کے ساتھ باہمی رشتہ استوار کرنے میں مصروف ہے، تاہم ان مقدمات کی دوبارہ سماعت سے مذکورہ اقدامات پر کافی اثر پڑ سکتا ہے۔

USA Gefangenenlager Guantanamo Häftling

گوانتاناموبے میں قائم امریکی جیل قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے بہت بدنام رہی ہے

واشنگٹن انتظامیہ کے ناقدین کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج کے زیر انتظام جیلوں میں دہشت گردی کے مبینہ ملزمان کے خلاف تشدد کی داستانیں کچھ پرانی نہیں۔ عراق میں قائم ابوغریب کی جیل ہو یا کیوبا میں تعمیر کی گئی گوانتاناموبے، دونوں ہی جیلوں میں قید مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ پر تشدد واقعات اور حادثات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کو دوبارہ سماعت کے لئے پیش کرنے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں گے۔

نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں سی آئی اے کے ترجمان Paul Gimigliano کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہء انصاف نے سی آئی اے کو ابھی تک اس کے خلاف اپنی سفارشات سے آگاہ نہیں کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ محکمے نے ایک درجن کے قریب مقدمات پر کافی سوچ بچار کے بعد ہی اپنی سفارشات مرتب کی ہیں۔

رپورٹ: انعام حسن

ادارت: عدنان اسحاق