1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مبینہ حملے کے بعد نیٹو کو سپلائی بند

ہفتے کی صبح افغانستان سے آنے والے نیٹو کے ہیلی کاپٹروں کے ایک پاکستانی چوکی پر مبینہ حملے میں کم از کم چھبیس پاکستانی فوجی ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔ افغانستان میں نیٹو کمانڈر نے حملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔

default

یہ واقعہ ہفتے کو صبح دو بجے افغان سرحد سے قریب مہمند ایجنسی کے علاقے بازئی میں پیش آیا۔ پاکستانی حکومت نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور پاکستان سے گزر کر افغانستان میں اتحادی فوجیوں کو جانے والی رسد کی فراہمی روک دی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے کہا، ’’وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی چوکی پر نیٹو اور ایساف کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کی ہدایت پر یہ معاملہ نیٹو اور امریکہ کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔‘‘ واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کو بھی دفتر خارجہ طلب کر لیا گیا۔

Pakistan Armee Soldat FLASH Galerie

پاکستانی فوج نے سرحدی چوکی پر نیٹو کے حملے کو ’بلااشتعال‘ قرار دیا ہے

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کی خبر کے مطابق اسلام آباد میں اس حوالے سے ایک اعلٰی سطحی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی شرکت متوقع ہے۔ پاکستان کی وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے حملوں سے پاکستان کی خود مختاری مجروح ہوئی ہے اور پاکستانی عوام اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ ادھر پاکستانی فوج نے بھی ایک بیان میں اس حملے کو ’بلااشتعال‘ اور ’غیر امتیازی‘ قرار دیا ہے۔

حملے کے بعد پاکستان نے طورخم سرحد سے گزر کر افغانستان میں نیٹو کو جانے والی رسد روک دی۔ مقامی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار مطاہر حسین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہم نے وفاقی حکومت کے احکامات موصول ہونے کے بعد نیٹو کی رسد روک دی ہے۔‘‘ تاہم جنوب مغربی سرحدی گزرگاہ چمن پر تعینات پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ قافلوں کو اب بھی گزرنے دیا جا رہا ہے۔ 

افغانستان میں نیٹو کی انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے ایک بیان میں کہا، ’’میں اس واقعے پر مکمل توجہ دے رہا ہوں اور حقائق کا تعین کرنے کے لیے مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔‘‘

Pakistan NATO-Angriff November 2011 Afghanistan

پاکستانی حکام نے حملے کے بعد افغانستان میں نیٹو فورسز کو رسد کی فراہمی روک دی ہے

انہوں نے اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

گزشتہ چھ ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے حکام ایک دوسرے پر سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے الزامات لگاتے آ رہے ہیں۔

ستمبر 2010ء میں پاکستان نے نیٹو کے ایک حملے میں تین پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد طورخم کے راستے نیٹو کو رسد کی سپلائی گیارہ دنوں تک روکے رکھی تھی۔ امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ معذرت کرنے کے بعد سرحد کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔ پاکستان نے رواں ہفتے میمو گیٹ اسکینڈل پر امریکہ میں تعینات اپنے سفیر حسین حقانی کو بھی واپس بلا لیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے رواں برس مئی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے خدشے کے پیش نظر امریکہ سے مدد طلب کی تھی۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM