1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مبینہ جنگی جرائم: پاکستان معافی مانگے، ڈھاکہ حکومت

اتوار کے دن بنگلہ دیش نےاسلام آباد حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران پاکستانی فوج کی طرف سے کیے گئے مبینہ قتل عام اور ظلم وستم کی باقاعدہ معافی مانگے۔

default

وزیر خارجہ دیپو مونی

بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق وزیر خارجہ دیپو مونی نے ڈھاکہ میں تعینات کیے گئے نئے پاکستانی سفیر سے ملاقات کے دوران یہ مطالبہ کیا کہ نو ماہ تک جاری رہنے والی بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران اس وقت کے مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستانی فوجیوں نے بنگالی عوام پر جو ظلم و ستم ڈھائے تھے، اس کے لیے سرکاری طور پر معذرت کی جائے۔

ڈھاکہ حکومت الزام عائد کرتی ہےکہ ان نو مہینوں کے دوران پاکستانی فوجیوں نےمقامی حامیوں کے ساتھ مل کر قریب تین ملین افراد کو ہلاک کیا، دو لاکھ خواتین کی آبروریزی کی جبکہ لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔ اسلام آباد حکومت بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ان اعدادوشمار پر اختلاف رکھتی ہے۔

Sheikh Hasina in Berlin

وزیر اعظم شیخ حسینہ

بنگلہ دیشی وزیرخارجہ دیپو مونی نے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کے حل کے لیے زور دیا کہ حکومت پاکستان ڈھاکہ حکومت کا مؤقف سمجھے اور اسے باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین اثاثوں کی تقسیم اور جنگ کے ازالے جیسے مسائل بھی حل ہونے چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے مابین اچھے سفارتی تعلقات کے لیے ان مسائل کا حل ضروری ہے۔

وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے ان بنگالیوں کے خلاف ایک خصوصی عدالتی ٹربینول قائم کیا ہے، جو1971ء کی جنگ کے دوران مغربی پاکستانی فوجیوں کی مدد کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی اسلامی پارٹی جماعت اسلامی کے پانچ اہم رہنما اس وقت ان الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور حراست میں ہیں۔ انہی الزامات پر بنگلہ دیش کی اپوزیشن جماعت کے دو رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ تمام افراد ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

بین الاقوامی برادری نے ڈھاکہ حکومت پر زور دیا ہے کہ اس ٹربینول کی کارروائی کو شفاف اور غیر جانبدار رکھا جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس