1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مبینہ امریکی جاسوسوں پر ایران میں مقدمہ

ایرانی حکومت ان تین امریکی باشندوں کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کر رہی ہے جنہیں اٹھارہ ماہ قبل جاسوسی کے شبے پر عراق سے متصل سرحد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

default

بند کمرے میں ہونے والی اس عدالتی کارروائی میں غیر ملکی نگران سفارتکاروں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس مقدمے کی کارروائی کو دیکھنے کے لیے سوئس سفیر Livia Leu Agosti کو بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ چونکہ امریکہ اور ایران کے سفارتی تعلقات منقطع ہیں اسی لئے سوئس سفیر ایران میں امریکی مفادات کی نگرانی کرتے ہیں۔

تین امریکی باشندوں کو جولائی سن 2009ء میں ایرنی حکام نے عراقی سرحد سے ملحقہ علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ امریکیوں کا مؤقف ہے کہ وہ عراقی علاقے کردستان میں کوہ پیمائی کر رہے تھے اور اگر وہ اس دوران بھولے سے ایرانی سرحد میں داخل ہو گئے تو یہ غیر ارادی طور پر ہوا تھا۔

ان تین امریکیوں میں سے ایک خاتون سارہ شرود کو گزشتہ برس ستمبر میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا جبکہ اس کے دو ساتھی جوش فاٹل اور شین بوئر ابھی تک ایرانی حکام کی حراست میں ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تہران میں شروع ہونے والے اس مقدمے کی سماعت میں فاٹل اور شین شامل ہوں گے یا نہیں۔

Iran Gefangene Wanderer Mütter

دوران حراست تہران میں جوش فاٹل اپنے ماں سے ملاقات کے دوران

گزشتہ روز ان امریکیوں کے وکیل مسعود شافی نے کہا کہ عدالتی کارروائی سے قبل انہیں اپنے مؤکلوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے خبر رساں ادارے AFP کو بتایا ، ’ مجھے اس کیس کی تیاری کے سلسلے میں فاٹل اور شین سے ملنا چاہیے تھا، جو ممکن نہیں ہو سکا۔‘

ابتداء میں ان امریکیوں پر غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں ان پر جاسوسی کا الزام بھی لگا دیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان امریکی شہریوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور انہیں امریکہ کے حوالے کر دیا جائے۔

خیال رہے کہ جمہوری اسلامی ایران، امریکہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن گردانتا ہے۔ ایران کے متنازعہ جوہری پرگروام کی وجہ سے تہران کی مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کے ساتھ سفارتی سطح پر تناؤ کی کیفیت نمایاں ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM