1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مبارک ہو، سات اربواں بچہ دنیا میں آگیا

منیلا میں ایک بچی کی پیدائش پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ کیونکہ علامتی طور پر اس بچی کی پیدائش کے ساتھ ہی دنیا کی آبادی سات ارب ہوگئی ہے۔

default

اقوام متحدہ کی طرف سے تخمینہ لگایا گیا تھا کہ دنیا کی آبادی کو سات ارب تک پہنچانے والے بچے کی پیدائش 31 اکتوبر کے قریب ہوگی۔ جس کے بعد دنیا بھر میں مختلف ممالک میں شماریاتی حوالے سے اس تاریخی موقعے کو منانے کے لیے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس بارے میں یہ اندازے بھی لگائے گئے تھے کہ سات اربواں بچہ دراصل ایشیا میں ہی پیدا ہوگا۔

فلپائن وہ پہلا ملک ہے جس نے سات اربویں بچے کی پیدائش کا اعلان کیا۔ یہ بچہ بہت ہی پیاری لڑکی ہے جسے ’دانیکا مے کماچو‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ڈھائی کلو یعنی 5.5 پاؤنڈز وزن کی دانیکا اتوار کی نصف شب سے کچھ ہی دیر قبل اس دنیا میں آئی اور پیدا ہوتے ہی دنیا بھر میں مشہور ہوگئی۔ منیلا کے یوزے فابیلا میموریل ہسپتال میں اس موقع پر میڈیا اور کیمروں کا ایک جم غفیر جمع تھا۔

دانیکا کی ماں ’کامیلے دالورا‘ نے جب اپنی بیٹی کو بازوؤں میں لے کر پیار کیا تو اس کا کہنا تھا، ’’یہ کتنی پیاری ہے۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ یہ دنیا کی سات اربویں بچی ہے۔‘‘ دانیکا، دالورا اور اس کے پارٹنر فلورانٹو کاموچو کا دوسرا بچہ ہے۔


اقوام متحدہ کے حکام نے اس موقع پر بچی کو ایک کیک کا تحفہ دیا۔ جبکہ مقامی اداروں کی طرف سے دیگر کئی طرح کے تحائف اس بچی اور اس کے والدین کو پیش کیے گئے۔ ان میں ایک اسکالر شپ گرانٹ کے علاوہ اس بچی کے والدین کو جنرل اسٹور کھولنے کے لیے رقم کی فراہمی بھی شامل ہے۔

اس موقع پر 12 سالہ لوریزے مائے گوئیوارا بھی ہسپتال میں موجود تھی۔ گوئیوارا وہ بچی ہے جسے منیلا ہی نے سال 1999ء میں دنیا کی چھ اربویں بچی قرار دیا تھا۔ اس موقع پر گوئیوارا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’ میں اس پیاری بچی کو دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اسے بھی میری طرح ہر ایک پیار کرے گا۔‘‘

تاہم اقوام متحدہ نے شماریاتی اعتبار سے دنیا کی آبادی کو چھ ارب تک پہنچانے والا بچہ بوسنیا کے عدنان میوِک کو قرار دیا تھا۔ عدنان 12 اکتوبر 1999ء کو پیدا ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل کُوفی عنان کی سراجیوو میں اس بچے کو گود میں لیے تصویر بھی جاری کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، اکیسویں صدی کے آخر تک دنیا کی آبادی 10 ارب کا ہندسہ بھی پار کر جائے گی۔

رپورٹ: افسر اعوان / خبر رساں ادارے

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس