1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مبارک کا استعفیٰ: مطلق العنان عرب رہنما بے چین

مصر پر تین عشروں تک حکمرانی کرنے والے حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے سے عرب دنیا کے مطلق العنان حکمرانوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دوسری جانب بعض دانشوروں کو خدشہ ہے کہ مصر میں طویل مارشل لاء لگ سکتا ہے۔

default

تیونس اور مصر کے بعد اب اس سلسلے میں بالخصوص یمن کا نام لیا جا رہا ہے، جہاں صدر علی عبد اللہ صالح گزشتہ 32 برسوں سے اقتدار پر براجمان ہیں۔ تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کے بعد حسنی مبارک مختصر عرصے میں عرب دنیا کے دوسرے ایسے حکمران بن گئے ہیں، جن کا اقتدار عوامی جدوجہد کی نذر ہو گیا۔

تیونس کے انقلاب کو انقلابِ یاسمین کا نام دیا گیا تھا جبکہ مصری عوام اپنے ہاں آنے والی تبدیلی کو سفید انقلاب کا نام دے رہے ہیں۔ مصر میں 1952ء میں شاہ فاروق کے خلاف فوجی بغاوت سے اب تک صرف فوجی شخصیات ہی حکمران رہی ہیں۔ اگرچہ سابق صدر انور سادات اور حسنی مبارک عمومی طور پر بہت کم ہی وردی میں ملبوس نظر آتے تھے، تاہم دونوں پس پردہ فوجی سروس میں فعال رہے۔

Ägypten Proteste Chaos

مصری صدر نے حال ہی میں عوامی دباؤ کے بعد اپنے طویل دور اقتدار میں پہلی بار نائب صدر نامزد کیا تھا

82 سالہ حسنی مبارک اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دارالحکومت قاہرہ چھوڑ کر بحیرہء احمر کے کنارے واقع تعطیلاتی شہر شرم الشیخ منتقل ہوگئے ہیں۔ نائب صدر عمر سلیمان کے مطابق اقتدار اب فوجی کونسل کے پاس رہے گا، جو عرب دنیا کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک کا انتظام سنبھالے گی۔ فوجی کونسل کی جانب سے فی الحال پارلیمانی یا صدارتی انتخابات کے کسی نظام الاوقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔

صرف اتنا کہا گیا ہے کہ فوج ’مصر کے عظیم عوام کی امیدوں پر پورا اترنا چاہتی ہے۔‘ بعض حلقے مصری فوج کے بارے میں یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بہت زیادہ حامی نہیں ہے۔

ایک اسرائیلی سفارتکار کا کہنا ہے کہ مستعفی ہونے سے قبل حسنی مبارک نے اس سفارتکار کے ساتھ گفتگو کی۔ اس سفارتکار کے مطابق حسنی مبارک نے امریکہ کی جانب سے مصر میں جمہوریت کی حمایت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب حالات شدت پسندی کی جانب بڑھیں گے۔

مصری فوج کی کمان فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کے پاس ہے جو اب تک مبارک انتظامیہ میں دفاع کے وزیر تھے۔ چونکہ بہت مذہبی نظریات کا پرچار کرنے والی جماعت اخوان المسلمین ایک منظم قوت بن کر ابھر رہی ہے، اس لیے یہ خدشات بھی نمایاں ہیں کہ شاید فوج توقعات کے برعکس لمبے عرصے تک اقتدار میں رہے۔

Wahlen in Jemen Ali Abdullah Saleh Wahllokal

یمن کے صدر علی عبد اللہ صالح

ادارہ برائے سٹریٹیجک اور بین الاقوامی علوم سے وابستہ جان آلٹرمین کا شمار ایسے ہی دانشوروں میں ہوتا ہے جو مصر میں ’فوجی بوٹوں کی گرج سن رہے ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں، ’’موجودہ صورتحال بس آغاز کا انجام ہے، مصر جمہوریت کی جانب نہیں بڑھ رہا، یہ مارشل لاء کی جانب بڑھ چکا ہے۔‘‘

العربیہ ٹیلی وژن کے مطابق قوی امکان ہے کہ فوجی قیادت ملکی کابینہ اور پارلیمان کو تحلیل کر دے گی اور آئینی عدالت کے سربراہ فوجی کونسل کا حصہ بن جائیں گے۔ مستقل فوجی اقتدار کی راہ روکنے کی واحد امید وہی عوامی طاقت سمجھی جا رہی ہے، جس نے حسنی مبارک کے اقتدار کو زوال سے دوچار کیا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM