1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مبارک دور کی شخصیات کے خلاف عدالتی کارروائی کا مطالبہ

مصری دارالحکومت قاہرہ میں آج جمعہ کے روز ہزار ہا افراد نے تحریر اسکوائر میں جمع ہو کر اپنے ان مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا جو ان کے بقول ابھی تک پورے نہیں کیے گئے۔

default

قاہرہ میں ہزار ہا شہریوں کا مظاہرہ، فائل فوٹو

مصر میں کئی ہفتوں تک اپنی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں صدر حسنی مبارک کے دور اقتدار کے خاتمے کا سبب بننے والے ان مظاہرین کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ مبارک انتظامیہ میں شامل سرکردہ شخصیات کے خلاف مقدمے چلائے جائیں۔

مظاہرین نے آج کے دن کو 'جواب دہی کے جمعہ‘ کا نام دے رکھا تھا اور اس دوران یہ مطالبہ کیا گیا کہ حسنی مبارک کے دور کی سرکردہ عہدوں پر فائز رہنے والی شخصیات کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے۔

یہ مظاہرین گزشتہ دو ماہ سے بہت سے مطالبات کر رہے ہیں۔ ان میں سے اہم ترین مطالبہ یہ ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کے تین قریب ترین ساتھیوں پر مقدمے چلائے جائیں۔ ان تین افراد میں مبارک کے سابق چیف آف اسٹاف ذکریا اعظمی، مصری پارلیمان کے ایوان بالا کے سابق اسپیکر صفوت الشریف اور پارلیمانی ایوان زیریں کے ایک سابق اسپیکر فتحی سرور شامل ہیں۔

کل جمعرات کے روز مصر میں ایک عدالت کے حکم پر ذکریا اعظمی کو تفتیش کے لیے پندرہ روزہ حراست میں لیا گیا تھا۔ حسنی مبارک کے اس سابق چیف آف اسٹاف پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے بے تحاشا رقوم حاصل کیں۔

Flash-Galerie Ägypten Kombo Hosni Mubarak und sein Sohn Gamal Mubarak

حسنی مبارک کے دور میں ان کے بیٹے جمال مبارک کو مستقبل کا رہنما قرار دیا جاتا تھا

مبارک حکومت کے ایک سابق ہاؤسنگ وزیر ابراہیم سلیمان کو بھی دو ہفتوں کے لیے تفتیش کی خاطر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف تجارتی معاہدوں میں بدعنوانی سے ذاتی فائدے حاصل کیے۔

قاہرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق کل جمعرات ہی کو راسخ حامدی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے تھے۔ وہ معزول صدر حسنی مبارک کے برادران نسبتی میں سے ایک ہیں۔ مصر میں سابق وزیر اعظم عاطف عبید کو بھی عرب انٹرنیشنل بینک کے سربراہ کے عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔ ان کی برطرفی مصری اٹارنی جنرل کی طرف سے ان کے خلاف سرکاری رقوم کے غبن کے بارے میں الزامات سے متعلق چھان بین شروع کیے جانے کے بعد عمل میں آئی۔

جمعہ کے روز قاہرہ میں مظاہرہ کرنے والے ہزار ہا شہریوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سابق صدر حسنی مبارک کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کو تحلیل کیا جائے۔ اس کے علاوہ وہ تمام مقامی کونسلیں بھی ختم کی جائیں جن کے ارکان مبارک دور میں منتخب کیے گئے تھے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: افسر اعوان

DW.COM