1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مبارک اور اس کے بیٹوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا

مصر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق سابق صدرحسنی مبارک اور ان کے دو بیٹوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کا باقاعدہ آغاز تین اگست سے قاہرہ کی ایک کرمنل کورٹ میں شروع کیا جائے گا۔

default

ایک عدالتی اہلکار کے کے مطابق سابق صدر پر بدعنوانی اور 18 روز تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران قتل کے الزامات ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حسنی مبارک اور ان کے بیٹوں جمال اور اعلاء کے خلاف مقدمات کی سماعت ایک سینیئر جج رفعت احمد کریں گے۔ یہ کرمنل کورٹ قاہرہ کے شمال میں واقع ہے۔

رواں ماہ کے آغاز پر مصر کے وزیر انصاف کا کہنا تھا کہ اگر حسنی مبارک پر لگائے گئے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ مصر میں حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران تقریباﹰ 800 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حسنی مبارک 13 اپریل سے سیاحتی شہر شرم الشیخ کے ایک ہسپتال میں قید ہیں، جہاں انہیں دل کی تکلیف کے باعث داخل کروایا گیا تھا۔ حسنی مبارک کو دوران تفتیش دل کی تکلیف ہوئی تھی۔

NO FLASH Hosni Mubarak in Untersuchungshaft und im Krankenhaus

حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران تقریباﹰ 800 افراد ہلاک ہوئے تھے

منگل کو وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک کی صحت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں جیل منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے وہ ٹھیک ہونے تک ہسپتال میں ہی رہیں گے۔ حسنی مبارک کے دونوں بیٹوں کو قاہرہ کی ایک مضافاتی جیل تورہ میں رکھا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے حسنی مبارک کو جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران موبائل اور انٹرنیٹ سہولیات بند کرنے کی وجہ سے 90 ملین ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ سابق مصری صدر کے خلاف مقدمات کی سماعت بند کمرے میں کی جائے گی یا پھر میڈیا اور عوامی نمائندوں کو بھی کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔

اپنے تیس سالہ دور اقتدار کے آخری برسوں میں حسنی مبارک کئی طرح کے طبی مسائل کا شکار رہے۔ مارچ 2010 میں وہ علاج کی غرض سے جرمنی بھی گئے تھے۔

حکومت سے علیحٰدگی کے بعد مصر کے 80 ملین باشندوں سے اپنے آخری خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے اور اسی سرزمین پر جان دیں گے۔

واضح رہے کہ مصر میں حسنی مبارک کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ ان کے اقتدار کے خلاف احتجاجی تحریک کا مرکز رہنے والے دارالحکومت قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر اس سے پہلے ہزاروں افراد نے جمع ہوکر سابق صدر کے خلاف مقدمات چلانے کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: شامل شمس

DW.COM