1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’مباحثے سے واضح ہوگیا ہے کہ کون امریکا کا صدر بنے گا‘

امریکی ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن اور ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین پہلے ٹی وی مباحثے کے بعد سے دنیا بھر کے سوشل میڈیا میں اس کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین مباحثہ امریکا کے علاوہ دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پر اس مباحثے کے حوالے سے گرما گرم بحث دیکھنے کو ملی۔

صحافی کرن نازش نے اپنی فیس بک پوسٹ پر لکھا،’’ میں اس بات پر انتہائی دل برداشتہ ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں جھوٹ بولا، جھوٹی کہانیاں بیان کیں اور ان لوگوں تک غلط معلومات پہنچائی جنہوں نے ان کو ووٹ دینا ہے۔‘‘

سینیٹر شیری رحمان نے ٹوئٹ میں لکھا،’’ کسی بھی سیات دان کے لیے اپنی ٹیکس کی ادائیگی کی معلومات جاری کرنا ضروری ہے۔‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ وہ صرف تب اپنی ٹیکس کی تفصیلات جاری کریں گے جب ہلیری کلنٹن اپنی ای میلز کو عوامی کریں گی۔

ٹی وی سے وابستہ فخرعالم نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ٹرمپ کو سن کر یہ احساس ہوتا ہے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی نااہل لوگ اعلیٰ عہدوں  پر پہنچ جاتے ہیں۔‘‘

نورین شاہ نے لکھا،’’ اس مباحثے میں ان ممالک کا ذکر ہی نہیں ہوا جہاں امریکا ڈرون حملے کر رہا ہے جیسا کہ پاکستان، یمن اور لیبیا۔‘‘

USA Wahlkampf TV Duell (Getty Images)

کلنٹن اور ٹرمپ کے درمیان پہلا ٹی وی مباحثہ

سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل نےٹوئٹ میں ہلیری کنلٹن کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا،’’ اس مباحثے سے واضح ہوگیا ہے کہ کون امریکا کا صدر بنے گا۔‘‘

صحافی مہرین زہرہ ملک نے ٹوئٹ میں لکھا،’’جب ایک امیدوار سنجیدہ ہو اور دوسرا صرف رعب و دبدبہ دکھا رہا ہو تو لفظ مباحثہ اپنے معنی کھو دیتا ہے۔‘‘

زیادہ تر ماہرین اور بڑے اخباروں کے مطابق کلنٹن بہتر تیاری کے ساتھ اس میں شامل ہوئیں اور نوے منٹ طویل اس مباحثے میں ان کا پلڑا بھاری رہا۔