1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماہ رمضان، عسکری گروہوں کی فنڈ ریزنگ میں تیزی

پاکستان نے پانچ ہزار مشتبہ دہشت گردوں کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر تین ملین ڈالر کی رقوم ضبط کر لی گئی ہیں۔ تاہم پاکستان میں جنگجوؤں کی فنڈ ریزنگ کا مکمل قلع قمع ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔

حکومت پاکستان نے عسکری گروہوں کی طرف سے فنڈ ریزنگ کا خاتمہ ممکن بنانے کے لیے مزید کچھ اقدامات اٹھائے ہیں لیکن عالمی برداری کے تحفظات ابھی تک دور نہیں ہو سکے ہیں۔ جون میں بین الاقوامی واچ ڈاگ گروپس کی ایک ملاقات ہونا طے ہے، جس میں پاکستان کو کچھ مشکل سوالات کا جواب دینا ہو گا۔ ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘ نامی یہ واچ ڈاگ گروپ دہشت گردوں کی فنڈ ریزنگ کو روکنے کی خاطر سرگرم ہے اور ساتھ ہی ایسے اکاؤنٹس اور بینک ٹرانسفررز پر بھی نطر رکھتے ہیں، جو دہشت گردوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

امریکا نے لشکر طیبہ کی طلبہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دے دیا

پاکستان میں کالعدم تنظیمیں اب بھی سرگرم

لاہور میں جماعت الدعوۃ کی ’اسلامی عدالت‘: تحقیقات شروع

پاکستان میں سکیورٹی تجزیہ کاروں اور حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کالعدم گروپوں کے ساتھ  ایک ’منظم ہمدردی اور سیاسی وابستگیوں کے باعث‘ ان کی طرف سے چندہ جمع کرنے کے عمل کو مکمل طور پر روک دینے میں مشکلات حائل ہیں۔ ماضی میں اسلام آباد نے ممنوعہ انتہا پسند گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اور کئی تنظیموں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم ان میں سے کئی گروہ نئے ناموں کے ساتھ فعال ہو گئے تھے۔ انہی میں لشکر طیبہ بھی شامل ہے، جو اب بھی مختلف ناموں کے ساتھ خیرات جمع کرنے میں مصروف ہے۔

پاکستان میں انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ایک ہی راستہ ہے کہ حکومت ایسے افراد اور گروپوں پر مکمل پابندی عائد کر دے، جن پر دہشت گردی کا شبہ ہے۔‘‘ دوسری طرف پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی اتھارتی نیکٹا کے ڈائریکٹر احسان غنی کے بقول دہشت گردوں کو مالی امداد کی روک تھام کی خاطر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ نیکٹا کا قیام سن دو ہزار تیرہ میں ہوا تھا تاہم غنی کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے۔

پاکستانی سیاستدان کچھ  ایسے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنے نام بدل کر فنڈ ریزنگ کا کام شروع کر رکھا ہے۔ اے پی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ انہی انتہا پسند گروہوں کی بدولت ایسے سیاستدانوں کو مقامی سطح پر حمایت حاصل ہے اور اس طرح وہ ووٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایسے گروہ بھی ہیں، جن کا مقصد متنازعہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کے خلاف جہاد ہے۔ ان گروپوں کے مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ اداروں اور فوج سے روابط بھی بتائے جاتے ہیں۔ اسی لیے ان افراد یا گروہوں کے خلاف کارروائی آسان کام نہیں ہے۔

Hafiz Mohammad Saeed (AP)

کالعدم جماعت دعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید اب بھی فعال ہیں

اسلام آباد میں واقع جناح انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر حسن اکبر کا کہنا ہے کہ حکومت نے دہشت گردوں کی منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اے اپی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دبئی اور امریکا بھی ایسے گروہوں کے کاروبار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے، جنہوں نے اپنے نام بدل لیے ہیں۔

عامر رانا کا البتہ کہنا ہے کہ پاکستان میں ممنوعہ تنظیمیں اب بھی کھلے عام مسجدوں کے باہر چندہ اکٹھا کر رہی ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب بھی پاکستان میں فعال شیعہ مخالف سنی انتہا پسند تنظیموں کو رقوم فراہم کر رہا ہے۔ نیکٹا کے ڈائریکٹر احسان غنی نے بھی تصدیق کی ہے کہ بالخصوص ماہ رمضان میں ایسی تنظیموں کی طرف سے چندہ اکٹھا کرنے کے کاموں میں تیزی آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیکٹا نے صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں کہ ان تنظیموں کی طرف سے چندہ اکٹھا کرنے کے عمل کو روکا جائے۔ غنی کا اصرار ہے کہ سیاسی عزم کی کمی اور بیورکریسی کی رکاوٹوں کی وجہ سے ان تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو پا رہی ہے۔

DW.COM