1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ماہرہ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ہلچل کا سبب

پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کا ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چرچا ہو رہا ہے۔ بولی ووڈ اداکار رنبیر کپور کے ساتھ نیویارک میں ماہرہ خان کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہوئیں، اُن پر تنقید کے تیر برسنے لگے۔

اِن تصاویر میں ماہرہ کو ایک بیک لس لباس میں رنبیر کپور کے ساتھ اسموکنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ نیویار ک میں لی گئی ان تصاویر کے وائرل ہوتے ہی پاکستانی اور بھارتی میڈیا بھی میدان میں اتر آیا ۔ بھارتی اخبار’ دی انڈین ایکسپریس ‘ نے لکھا کہ تصاویر کے وائرل ہوتے ہی ٹویٹر صارفین نے بحث اور مذاق کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اخبار کے مطابق بعض نے لکھا کہ کہ وہ بے تابی سے اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب یہ دونوں اداکار اعلانیہ طور پر اپنے ’رشتے‘ کا اعتراف کریں گے۔

 تاہم دوسری جانب پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے ماہرہ خان کے ’قابل اعتراض‘ مختصر لباس اور رنبیر کے ساتھ اسموکنگ والی تصاویر پر اُنہیں خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک ٹویٹر صارف شاہ رخ ملک نے لکھا،’’ یہ کتنا برا ہے کہ وہ مختصر لباس پہنے ہوئے تھیں اور سگریٹ پی رہی تھیں۔‘‘ ایک اور صارف محمد دانش نے لکھا،’’ جج کرنا بند کریں، ماہرہ کی اپنی زندگی ہے۔‘‘

 

تاہم سوشل میڈیا پر ماہرہ اور رنبیر کپور کی ان تصاویر کے حوالے سے زیادہ تر تبصرے ناپسندیدگی کے اظہار سے بھر پور نظر آتے ہیں۔

 دوسری جانب ماہرہ خان پر تنقید کے تیروں کی برسات ہوتی دیکھ کر اُن کے ساتھی فنکار اُن کی حمایت میں اتر آئے ہیں۔ معروف پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا،’’ کیا ہم اپنے کام سے کام رکھ سکتے ہیں؟ ہم لوگوں کو جج کرنے اور اُن پر حملے کرنے میں اتنے جلد باز کیوں ہیں؟ خاص طور پر جب بات کسی عورت کی ہو۔ یہ ماہرہ کی اپنی زندگی ہے۔‘‘

گلوکار علی ظفر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہر عورت کو اپنی زندگی اپنی مرضی گزارنے کا حق ہے۔

معروف پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے ماہرہ کی حمایت میں ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ،’’ مشہور شخصیات کے بارے میں مصالحے لگا کر بات چیت کرنا بد قسمتی سے شو بزنس کا حصہ ہے لیکن برائے کرم غلط باتیں پھیلانے سے گریز کریں۔‘‘

ٹویٹ

بھارتی میڈیا کے مطابق جب رنبیر کپور کے والد اور مشہور بولی ووڈ اداکار رشی کپور سے ان تصاویر کے بارے میں استفسار کیا گیا تو کپور کا کہنا تھا کہ  تصاویر سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں اور بہتر ہے کہ جن کی تصویریں ہیں اس بارے میں سوال بھی انہی سے کیا جائے۔

  

DW.COM