1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

ماں نے بیٹی کو زندہ جلا دیا

لاہور میں پروین رفیق نامی خاتون نے اپنی بیٹی کو خاندان کی مرضی کے بغیر اپنی پسند سے شادی کرنے کے جرم میں آگ لگا کر مار دیا ہے۔ پولیس نے ماں کو حراست میں لے لیا ہے۔

Pakistan Lahore Protest Nankana Operation

پاکستان میں ہر سال تقریبا ایک ہزار خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے

پولیس افسران کے مطابق یہ واقعہ آج پاکستان کے ثقافتی مرکز لاہور میں پیش آیا اور پروین رفیق نامی اس خاتون کو پولیس نے آج ہی حراست میں بھی لے لیا۔ اس کیس کے پولیس افسر شیخ حماد نے اے پی کو بتایا، ’’اس خاتون نے اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی زینت رفیق کو اپنے بیٹے احمر رفیق کی مدد سے ایک بستر کے ساتھ باندھا اور اس پر تیل چھڑک کے اسے آگ لگا دی۔‘‘

شیخ حماد نے بتایا کہ زینت رفیق نے گزشتہ ماہ عدالت کے سامنے ایک موٹر سائیکل مکینک حسن خان سے نکاح کر لیا تھا۔ تین روز قبل اس لڑکی کی ماں زینت کے گھر آئی تھی اور اسے گھر واپس آنے کے لیے آمادہ کیا تھا اور کہا تھا کہ دوبارہ سے ایک روایتی طریقے سے شادی کی تقریب کی جائے گی تاکہ لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ اس نے بھاگ کر شادی کی تھی۔

اس لڑکی کے شوہر نے اس واقعے کے بعد ایک پاکستانی نیوز چینل جیو کو بتایا، ’’میری بیوی نے مجھے کہا تھا کہ مجھے مت جانے دو،یہ مجھے مار دیں گے۔‘‘

پاکستان میں ہر سال تقریبا ایک ہزار خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ماریہ بی بی نامی ایک خاتون کو اس لیے جلا دیا گیا تھا کیوں کہ اس نے اپنے سے دگنی عمر کے شخص سے شادی کرنے سے انکار کیا تھا۔ مرنے سے قبل ماریہ نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرا دیا تھا۔ اس کیس کے مرکزی ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں۔

ایک ماہ قبل پولیس نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ایک مقامی قبیلے کے 13 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان افراد نے ایک 17 سالہ لڑکی کو آگ لگا کر ہلاک کر دیا تھا کیوں کہ اس لڑکی نے اپنی سہیلی کی پسند کی شادی کرانے میں مدد کی تھی۔

DW.COM