1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ماڈل یو این کانفرنسیں: مستقبل کے مسائل کے حل کی تیاری آج

پاکستان میں دو دہائیوں سے نجی تعلیمی ادارے اقوام متحدہ کی ماڈل کانفرنسوں (ایم یو این) کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اب سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں میں سیاسی و ثقافتی شعور اجاگر کرنا ہے۔

Pakistan MUNIC Islamabad (DW/I. Jabeen)

اسلام آباد میں اس مہینے نویں مرتبہ ماڈل اقوام متحدہ اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ میں قائم دی سٹی اسکول کے زیر اہتمام نویں ماڈل یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس کا افتتاح نو فروری کو ہوا اور اس سلسلے کی چار روزہ تقریبات ہفتہ گیارہ فروری کے روز بھی جاری تھیں، جن میں پنجاب بھر سے درجنوں اسکولوں کے پرنسپل، اساتذہ اور طلبہ شرکت کر رہے ہیں۔

اس ماڈل یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس کی افتتاحی تقریب گلوبل ولیج سے خطاب کرتے ہوئے سٹی اسکول کے کیپیٹل کیمپس کے پرنسپل مسٹر جان پروکٹر نے کہا کہ ایم یو این پروگرام اقوام متحدہ کا ماڈل ہے، جس میں اس سال 35 ممالک کی ثقافت کو متعارف کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام طلبا و طالبات میں سیاسی، معاشی اور ثقافتی شعور اجاگر کرنے میں مددگار اور معاشرے کو مثبت تبدیلی کی طرف لے جانے میں سنگ میل ثابت ہوتے ہیں۔

جان پروکٹر کے مطابق نوجوان طلبہ ہی مختلف ممالک میں مستقبل کے سفارتکار بنتے ہیں اور عالمی مسائل اور تنازعات پر بحثوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ''یہ ایک زبردست غیر نصابی سرگرمی ہے، جو نوجوانوں کی ذہنی بہتری اور ان میں سفارتکاری اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق شعور میں اضافے کی وجہ بنتی ہے۔‘‘

اسلام آباد کے سٹی اسکول میں جاری موجودہ میونک (MUNIC) کے صدر اور آرگنائزر سعد علی خواجہ نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی اس اجتماع میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی گرمجوشی قابل دید ہے اور ان کا ردعمل بھی بہت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میونک کا انتظام طلبا و طالبات خود ہی کرتے ہیں اور وہی اس کے لیے فنڈز بھی جمع کرتے ہیں۔

سعد علی خواجہ نے بتایا، ’’ہمیں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ کبھی فنڈز کم ہو جاتے ہیں اور اخراجات زیادہ اور کبھی سکیورٹی صورت حال کی وجہ سے ایسی کانفرنسیں مؤخر بھی کرنا پڑ جاتی ہیں۔ ایم یو این میں طلبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی طرح کا ماحول پیدا کرتے ہیں اور ایسی کانفرنسیں دنیا کے مختلف ملکوں میں ہوتی ہیں، جن سے اب تک ہزارہا نوجوان مستفید ہو چکے ہیں۔

Pakistan MUNIC Islamabad (DW/I. Jabeen)

پاکستانی دارالحکومت میں نویں میونک کانفرنس کے صدر سعد علی خواجہ

پاکستانی دارالحکومت میں جاری موجودہ ایم یو این میں انسداد دہشت گردی کی کمیٹی کے سربراہ طلحہ علی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے اجتماعات پاکستانی نوجوانوں کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اس سال ایم یو این میں بارہ کمیٹیاں بنائی گئیں، جن میں سوشل اینڈ کلچرل کمیٹی، یونائیٹڈ نیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام، پاکستان نیشنل اسمبلی، کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی اورکمیٹی فار اسٹیٹس آف ویمن جیسے گروپ بھی شامل ہیں۔ ہر کمیٹی کے دو چیئرپرسن ہوتے ہیں، ہیں جو عموماﹰ ایم یو این کے سینئر شرکاء ہوتے ہیں۔

طلحہ علی کے مطابق اس دوران مختلف کمیٹیوں میں بین الاقوامی سیاست، معیشت، صحت، ماحولیات اور ایسے ہی دیگر مسائل کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کے حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یوں آج کے نوجوانوں کو آنے والے کل کی قیادت کے طور پر مستقبل کے مسائل اور چیلنجوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

موجودہ MUNIC میں شریک ایک طالبہ شزا عندلیب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ مباحثوں کے علاوہ سٹی اسکول نے ابتدائی تقریبات میں ایک گلوبل ولیج بھی قائم کیا، جہاں اس اجتماع میں شامل ملکوں کو متعارف کرایا گیا اور مختلف ممالک کے سفارتکاروں کو بھی ان اسٹالز کے معائنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ ’’ایم یو این کے اختتام پر مباحثوں میں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو اسناد اور میڈلز بھی دیے جاتے ہیں۔‘‘

Pakistan MUNIC Islamabad (DW/I. Jabeen)

نویں میونک کانفرنس کے موقع پر طلبا و طالبات نے پینتیس ممالک کے بارے میں تعارفی سٹالز لگائے، اس تصویر میں یونانی سٹال پر جمع نوجوان

میونک کے اجتماع میں موجود ڈاکٹر سعد رعنا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کے دو بچے، ایک بیٹی اور بیٹا، جو اسی اسکول میں او لیول کے اسٹوڈنٹ ہیں، اس ’میونک‘میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں اسی طرح طلبہ کی سیاسی اور معاشرتی تربیت کرتے رہیں، تو یہی نوجوان مستقبل کے کامیاب معمار ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ ’کل کو یہ ملک تو اسی نئی نسل نے چلانا ہے‘۔

کئی تعلیمی ماہرین کے مطابق 'میونک‘ ایک ایسا منفرد اور تخلیقی تجربہ ہے، جو نوجوانوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ انہیں اقوام متحدہ جیسے ادارے کے ماڈل سے بہت کچھ سیکھتے ہوئے اپنے ہاں کے مقامی اور قومی مسائل کے حل کے لیے تیار کیا جا سکے۔

DW.COM