1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والوں کا قصاص چاہتے ہیں، طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اعلان کیا ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاون میں قتل ہونے والے افراد کا قصاص چاہتے ہیں۔

طاہر القادری کے بقول سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والے 14 افراد کے ورثا دیت کی پیشکش کو پہلے ہی ٹھکرا چکے ہیں: ’’وہ مقتولین کے خون کو بیچنا نہیں چاہتے۔ انہیں دو سال کی کوششوں کے باوجود عدالتوں کے ذریعے انصاف نہیں مل سکا ہے۔ اس لیے اب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کا قصاص دیا جائے۔ قصاص کے مطابق خون کا بدلہ خون ہوتا ہے اور قاتل کی سزا موت ہی ہوتی ہے۔‘‘

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دو سال مکمل ہونے پر لاہور میں مال روڈ پر ایک احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری کا کہنا تھا کہ 14 افراد کے قتل عام کے مجرموں میں صرف پولیس کے اہلکار اور افسران ہی شامل نہیں بلکہ یہ قتلِ عام وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کے حکم پر کیا گیا اور یہ دونوں افراد بھی بعض وفاقی اور صوبائی وزراء کے ساتھ اس قتل عام کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے بقول سانحہ ماڈل ٹاؤن کے منصوبہ ساز شریف برادران ہی ہیں: ’’سانحہ ماڈل ٹاؤن دہشت گردی کا ایک واقعہ ہے اس لیے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کو انصاف دلوانے کے لیے اس کیس کو فوجی عدالت میں چلوائیں۔‘‘

طاہر القادری کا مزید کہناتھا، ’’پاکستان کی ایک اعلٰی عدالت میں ہم نے سانحہ ماڈل ٹاون کے حوالے سے اپنا دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے۔ اس میں 26 گواہان پیش ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں ہو سکا کہ آیا یہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں ہے۔ جس ملک میں قاتلوں کا تعلق حکمران طبقے سے ہو وہاں انصاف ملنے کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔‘‘

انہوں نے خارجہ امور، اقتصادی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی کے حوالے سے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان قدرتی اور انسانی وسائل سے مالامال ملک ہے، اس ملک کو نا اہل اور کرپٹ حکمرانوں سے پاک کرنا ہو گا۔ انہوں نے اس موقعے پر حکومت کے جلد خاتمے کی پشین گوئی بھی کی اور کہا کہ انہیں موجودہ حکمران ستمبر تک اپنے عہدوں پر برقرار رہتے نظر نہیں آ رہے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے احتجاجی دھرنا عید تک ملتوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر انہیں انصاف اور قصاص نہ ملا تو پھر عید کے بعد وہ ایک ہفتےکے نوٹس پر اس سے بھی بڑا دھرنا دیں گے۔

پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے میں اسٹیج پر پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ قاف، جماعت اسلامی اور مجلس وحدت المسلمین کے رہنماؤں کے علاوہ ایسی شخصیات بھی موجود تھیں جن کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وابستگی کا تاثر نمایاں رہا ہے۔ اس دھرنے میں شریک رہنماؤں میں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید، پیپلز پارٹی کے سردار لطیف کھوسہ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ اور مسلم لیگ قاف کے کامل علی آغا بھی شامل تھے۔

ادھر پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے طاہرالقادری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی آڑ میں کسی کے اشارے پر جمہوری حکومت کے خلاف کسی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

طاہرالقادری کا دھرنا ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کے خلاف پاناما لیکس کے حوالے سے محاذ بنائے ہوئے ہیں اور حکومت کی تبدیلی کی افواہیں بھی سننے میں آ رہی ہیں۔

کیا طاہرالقادری کا قصاص کا مطالبہ جائز ہے؟

پاکستان کے ممتاز اور سینئیر صحافی مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے کارکن ہلاک ہوئے تھے، وہ قصاص کا مطالبہ کر سکتے ہیں، عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں، حکومت پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنے جذبات کا احساس دلا سکتے ہیں لیکن قصاص کا فیصلہ تو عدالتی اور قانونی طریقہ کار سے ہی ہو سکے گا۔ امید کی جانی چاہیے کہ جو بھی ہو گا وہ انصاف کے مطابق ہوگا۔

کیا ڈاکٹر قادری کا دھرنا سانحہ ماڈل ٹاون کے حوالے سے انصاف کے حصول کے لیے تھا یا پھر اس کے اور بھی کوئی مقاصد ہو سکتے ہیں؟ مجیب الرحمان شامی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں، ’’بظاہر تو اس دھرنے کا انعقاد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دو سال مکمل ہونے پر کیا گیا ہے اور اسے اسی تناظر میں ہی دیکھنا مناسب ہوگا لیکن اس دھرنے میں حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کو شامل کر کے طاقت کا مظاہرہ جس انداز میں کیا گیا ہے اس کے پیش نظر آنے والے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ ڈاکٹر قادری اس طاقت کو حکومت کے خلاف کس طرح استعمال کرتے ہیں اور حکومت اس کا جواب کیسے دیتی ہے۔‘‘

کیا یہ دھرنا کسی کے اشارے پر دیا گیا ہے؟

مجیب الرحمان شامی کی رائے میں پاکستان میں سیاست، سیاسی واقعات اور بعض اداروں کی ماضی میں جو صورتحال رہی ہے اس کے پیش نظر اس سوال کا حتمی جواب دینا آسان نہیں ہے: ’’ ہر واقعے اور منظر کے کئی پہلو اور زاویے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات سامنے نظر آنے والی ایک چیز میں سے دوسری چیز آ نکلتی ہے۔ اس لیے اس بات کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا اور ہو سکتا ہے کہ اس دھرنے کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھا کر کسی کو ریلیف دلوانا یا کسی کے مطالبات کی منظوری کی راہ ہموار کرنا ہو۔‘‘