مانچسٹر دھماکا، امداد میں پاکستانی برادری آگے آگے | معاشرہ | DW | 23.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

مانچسٹر دھماکا، امداد میں پاکستانی برادری آگے آگے

برطانوی شہر مانچسٹر میں گزشتہ روز ایک کنسٹرٹ ہال میں ہونے والے مشتبہ بم دھماکے کے بعد شہر میں آباد پاکستانی اور کشمیری امدادی سرگرمیوں میں آگے آگے دکھائی دیں۔

پاکستانی نژاد برطانوی صحافی فریڈ قریشی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں بتایا کہ اس واقعے کے بعد شہر میں ٹیکسی سروس، جس میں زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستانی اور کشمیری برادری سے ہے، نے متاثرہ افراد کو بلامعاوضہ ان کے گھروں تک پہنچانے کا کام سرانجام دیا۔ یہ دھماکا جس جگہ پر ہوا، اس سے کچھ ہی فاصلے پر چیتھم ہل کا علاقہ ہے، جہاں پاکستانی اور کشمیری نژاد باشندوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ اس علاقے میں مقیم متعدد افراد نے دھماکے کے بعد افراتفری کی وجہ سے اپنے اہل خانہ سے بچھڑ جانے والے افراد کو اپنے گھروں میں ٹھہرانے کا بندوبست بھی کیا۔

فرید قریشی کے مطابق ماضی میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا تھا، تو پاکستانی برادری کو کسی حد تک شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، تاہم صورت حال رفتہ رفتہ بدل چکی ہے اور اب ایک طویل عرصے سے کسی دہشت گردانہ واقعے میں کسی پاکستانی کا نام نہیں آیا۔

قریشی کا کہنا ہے کہ مانچسٹر میں آباد پاکستانی کئی دہائیوں سے وہاں آباد ہیں اور اب نئی نسل برطانیہ ہی کو اپنا اصل گھر اور ملک سمجھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے کسی واقعے کی صورت میں ان  کا ردعمل کسی دوسرے برطانوی شہری سے مختلف نہیں ہوتا۔

Großbritannien Tag nach dem Anschlag in Manchester (picture-alliance/AP Photo/R. Vieira)

والدین اس کانسرٹ میں شریک اپنی بیٹی کے ساتھ

مقامی سوشل ورکر شمس رحمان نے بھی ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا کہ اس واقعے کے بعد خوف کی ایک لہر ہے، تاہم مانچسٹر کے باسی اپنے طرز زندگی کو کسی بھی صورت ایسے بزدلانہ حملے سے متاثر نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی پاکستانی اور کشمیری برادری کا اس سانحے کے بعد ردعمل نہایت مثبت تھا، جو یہ بتاتا ہے کہ یہ افراد ایسے واقعات کو مسترد کرتے ہیں۔ شمس رحمان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں گو کہ زیادہ تر کے درپردہ مذہبی شدت پسندی کارفرما ہوتی ہے، تاہم اصل میں دہشت گردی کا کسی بھی مذہب یا نظریے سے تعلق نہیں اور یہ صرف اور صرف نفرت کے جذبات پر مبنی ہے۔

مانچسٹر ہی کی ایک کاروباری شخصیت عبدالقیوم نے بھی ڈی ڈبلیو سے گفت گو میں اس واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں مقیم ایشیائی برداری اس واقعے کے متاثرہ افراد کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعے کے بعد جس طرح مانچسٹر میں آباد پاکستانی اور کشمیری برادری نے متاثرہ افراد کی مدد کی ہے، وہ واضح کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تمام افراد متحد ہیں۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مانچسٹر دھماکوں اور امداد کے حوالے سے مختلف پوسٹس اور امداد کی پیش کشوں پر مبنی پوسٹس دکھائی دیں، جب کہ ٹوئٹر پر بھی واقعے کے متاثرین کے ساتھ ہم دردی اور ان کی مدد کے حوالے سے کئی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔