1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

مانع حمل ادویات کے خالق ادیب سائنس دان

طب کی دنیا میں مانع حمل گولیاں متعارف کرائے جانے کو لگ بھگ ساٹھ برس مکمل ہوگئے ہیں جس سے نہ صرف جنسیات کے علوم میں نئے باب کا اضافہ ہوا بلکہ عام انسانی زندگیوں پر بھی گہرا اثر پڑا۔

default

ان ادویات کے استعمال کی عوامی اجازت سب سے پہلے امریکہ میں دی گئی تھی اور اس وقت یہ گولیاں دنیا کی سو ملین سے زائد خواتین استعمال کرتی ہیں۔ اس قسم کی پہلی Oral Contraceptive Pills یعنی منہ کے ذریعے کھانے والی مانع حمل ادویات کی ایجاد کا سہرا ستتر سالہ امریکی کیمیا دان اور ناول نویس کارل جیراسی کو جاتا ہے جو آج کل امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں۔

سائنس کے موضوعات پر جیراسی متعدد کتابیں لکھ چکے ہیں جیسے 60ء کی دہائی میں لکھی گئی کتاب آپٹکل روٹیشنری ڈیسپرشن، 80ء کی دہائی میں لکھی گئی پولیٹکس آف کونٹراسیپشن اور ایسی چند اور۔ اس سائنس دان کی شہرت کی بڑی وجہ ان کے ادبی فن پارے بھی ہیں جس میں انہوں نے سائنسی موضوعات میں افسانوی پہلو کھوجنے کی کوشش کی ہے۔

50 Jahre Pille

اس سلسلے میں یورپی ملک آسٹریا میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں کارل جیراسی کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا

جیراسی نے تین ناول جبکہ چار ڈرامے تحریر کئے ہیں جن میں سے بیشتر جنسیات سے متعلق ہیں۔

ان کے بقول غیر سائنسی موضوعات پر قلم اٹھانے کی پیچھے ان کی جانب سے معاشرتی پہلوؤں کو جاننے کی جستجو کارفرما ہے۔ The Bourbaki Gambit نامی کتاب میں انہوں نے ایسے سائنس دانوں کی کہانی لکھی ہے جنہیں ایوارڈز کے حصول اور جوانی کا نشہ ہوتا ہے اور وہ اس کی لگن میں فرضی ناموں سے اپنے کام سے متعلق تحریریں منظر عام پر لاتے ہیں۔

اس سائنس دان کی بیوی ادب سے وابستہ پیشہ ور پروفیسر ہیں جنہوں نے اپنے شوہر کو غیر سائنسی موضوعات پرقلم نہ اٹھانے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم بیوی کو اندھیرے میں رکھتے ہوے جیراسی لکھتے رہے۔ ایک دن جب انہوں نے اپنی لکھی ہوئی ایک کتاب بیوی کو پڑھنے کے لئے پیش کی تو انہوں نے اتنی دلچسپی سے وہ کتاب پڑھی کہ ایک ہی بار میں ساری ختم کی اور پھر کہا۔ ’’Chemist, this is good‘‘۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت عاطف بلوچ

DW.COM