1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مانسہرہ غیر متوقع برفباری، سینکڑوں سیاح پھنس گئے

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیر پختونخواہ میں قبل از وقت شدید برفباری نے کاروبار زندگی مفلوج کر رکھا ہے۔ ضلع مانسہرہ میں سیاحتی مقامات ناران اور کاغان میں آج پیر کے روز بھی سینکڑوں سیاحوں کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ 40 برسوں میں اب تک کی سب سے شدید اور غیر متوقع طور پر قبل از وقت ہونے والی برفباری نے 24 گھنٹے کے اندر اندر شمالی علاقے کی ایک مرکزی ہائی وے کو مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ضلع مانسہرہ میں ایک روز کے دوران تین فُٹ تک برف جمع ہو چُکی ہے۔ وادی ناران میں جو سیاحتی اعتبار سے بہت اہم ہے، حکومت نے سڑکوں پر سے برف صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری اور فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ امدادی کارکُن ان علاقوں کو سیاحوں کے لیے صاف کرنے میں فوجیوں کی مدد کر رہے ہیں۔

Ramin shojaei, broad peak

مانسہرہ کے ضلعی پولیس سربراہ نجیب الرحمان نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بیان دیتے ہوئے کہا ’’ اب تک 12,000 سے زائد افراد کو بحفاظت متاثرہ علاقے سے نکالا جا چُکا ہے تاہم اب بھی ان علاقوں میں 800 سے 1,000 کے درمیان متاثرین پھنسے ہوئے ہیں جبکہ امدادی کام جاری ہے۔ مانسہرہ کے سیاحتی مقام میں یہ ناگہانی مصیبت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان میں عاشورہ کی چھٹیوں میں بڑی تعداد میں سیاہ وہاں لانگ ویک اینڈ منانے پہنچے تھے۔ انہیں ایسی شدید برف باری کا سامنا کرنا پڑا جس کی مثال گزشتہ کئی عشروں میں نہیں ملتی۔

حکام کے مطابق مانسہرہ کی وادی ناران سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں گزشتہ روز یعنی اتوار سے مسلسل برف باری ہو رہی ہے اور تین فٹ برف جمع ہو چُکی ہے۔ مقامی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اتوار کی شب وادی ناران سے کوئی 40 کلو میٹر کے فاصلے پر قائم علاقے بابو سر کی ایک کوئلے کی کان گلیشیر گرنے سے تباہ ہو گئی اور اس حادثے میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والا ایک کانکُن ہلاک ہو گیا ہے۔ ضلعی پولیس سربراہ نجیب الرحمان کے مطابق حکام اور امدادی کارکنوں نے 15 کان کنوں کو بچا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی پاور لائنز تباہ ہو گئی ہیں اور چند چھوٹے پُلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

نجیب الرحمان کے بقول حکام کی اوّلین ترجیح اُن ڈرائیوروں کو نکالنا تھی جو برف باری کے سبب بلاک ہونے والی سڑکوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ امدادی کار کُن اب ہوٹلوں میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں عموماً برف باری کا سلسلہ دسمبر سے شروع ہوتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سال اکتوبر سے ہی شدید برف باری نے گزشتہ 40 سالوں کا ریکارڈ ٹوڑ دیا ہے۔