1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالی میں جرمن ہیلی کاپٹر تباہ، تحقیقات شروع

جرمن ماہرین نے افریقی ملک مالی میں ہیلی کاپٹر کے حادثے وجوہات جاننے کی خاطر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ بدھ کو رونما ہونے والے اس حادثے کے نتیجے میں اس ہیلی کاپٹر میں سوار دو جرمن فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے جرمن فوج کے نائب چیف آف اسٹاف وائس ایڈمرل یوآخم روہلے کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کے دن مالی کے گوا ریجن میں ٹائیگر ہیلی کاپٹر کے اس حادثے کے بعد اس ساخت کے تمام ہیلی کاپٹرز کی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس حادثے کی مفصل رپورٹ سامنے نہیں آ جاتی اور یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ یہ ہیلی کاپٹر پرواز کے لیے محفوظ ہیں، تب تک اس ساخت کے تمام ہیلی کاپٹرز گراؤنڈڈ ہی رہیں گے۔

الشباب کے حملے میں افریقی مشن کے پچاس فوجی ہلاک

مالی کی فوج کے لیے یورپی تربیتی مشن کا آغاز

مالی کے شہر گاؤ پر انتہا پسندوں کا حملہ: فرانس کے لیے نئی پریشانی

یوآخم روہلے نے بتایا ہے کہ حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر سے کوئی سگنل نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ہیلی کاپٹر کے کریش ہونے کی وجہ ابھی تک نامعلوم ہے لیکن بظاہر ایسا اشارہ نہیں ملا کہ اسے تباہ کیا گیا ہے۔ جرمن ماہرین کی ٹیم ستائیس جولائی بروز بدھ جائے حادثہ پر پہنچی اور اس نے فلائٹ ریکارڈر کی تلاش شروع کر دی ہے۔

جرمن فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اس ہیلی کاپٹر میں دو جرمن فوجی سوار تھے، جو کریش کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ فوجی مالی میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ٹیمیں بھی اس حادثے کی تحقیقات میں شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا ہے کہ اس حادثے سے قبل اقوام متحدہ کے امن مشن کے ممبران پہلے سے ہی وہاں موجود تھے، جس کا مطلب ہے کہ وہ مقام اس ہیلی کاپٹر کی پرواز کے لیے محفوظ تھا۔

ابتدائی تفتیش سے بھی یہی معلوم ہوا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر حادثاتی طور پر کریش ہوا اور کسی نے اس حملے کا نشانہ نہیں بنایا تھا۔ جرمن روزنامے اشپیگل نے جرمن فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ غالبا یہ حادثہ کسی ٹیکنکل خرابی کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر کے علاوہ چانسلر انگیلا میرکل اور وزیر دفاع ارزولا فان ڈیر لاین نے بھی اس حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مالی میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے تحت 875 جرمن فوجی اس افریقی ملک میں تعینات ہیں۔ MINUSMA نامی اس مشن میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تیرہ ہزار فوجی شامل ہیں۔ اس مشن کا مقصد مالی میں استحکام لانا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس مشن کے تحت باغیوں اور حکومت کے مابین ایک امن ڈیل کو حتمی شکل دینا بھی شامل ہے۔

DW.COM