1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالی میں القاعدہ کے ہاتھوں برطانوی شہری کا قتل

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے شمالی افریقی بازو نے بدھ کے روز جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صحارا سے اغواء کئے جانے والے برطانوی شہری کو قتل کر دیا گیا ہے۔

default

عسکریت پسندعام شہریوں کو اغواء کر کے حکومتوں پر دباؤ ڈالتے ہیں

برطانوی حکومت نے بھی اس خبر کی تصدیق کر دی ہے کہ ایڈون ڈائر نامی اس شہری کو قتل کیا جا چکا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی بربریت قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق الجزائر کے سرکاری حکام نے بھی اس قتل کی تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق: ’’ ہماری اطلاعات کے مطابق مالی میں برطانوی شہری کو ’اسلامی مغرب میں القاعدہ‘ نامی تنظیم نے قتل کردیا ہے۔‘‘

اس سے قبل اس دہشت گرد تنظیم کی جانب سے جاری کئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ اپنی جیل میں بند اردن سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان انتہا پسند ابو قطادہ کو رہا کردے ورنہ مغوی برطانوی شہری کو قتل کر دیا جائے گا۔

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ کی ویب سائٹ پر جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مغوی برطانوی شہری ڈائر کو برطانیہ کو دی جانے والی دوسری ڈیڈ لائن کے اختتام پر 31 مئی کو قتل کیا گیا۔

القاعدہ کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر اوباما کی اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں قاہرہ میں کی جانے والی ایک بہت اہم تقریر سے صرف ایک روز قبل جاری کیا گیا ہے۔ الجزائر کے الخیبر نامی اخبار سے وابستہ سلامتی امور کے ایک ماہر حامد گومراسا کا کہنا ہے کہ اس بیان سے القاعدہ نیٹ ورک اقوام عالم خصوصا امریکہ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ علاقے میں کس قدر طاقت کا حامل ہے اور اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق ایڈون ڈائر اس یورپی سیاحتی وفد کا حصہ تھے جو افریقی علاقے ٹمبکٹو کے ’’صحرا میں فیسٹیول‘‘ میں شرکت کے لئے گیا ہوا تھا۔ ڈائر کو مالی اور نائیجر کے درمیان سرحدی علاقے سے اغواء کیا گیا تھا۔

کچھ روز قبل الجزائر سے ملنے والی میڈیا رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ "اسلامی مغرب میں القاعدہ" نامی تنظیم مغوی کی رہائی کے بدلے 10 ملین یورو کا مطالبہ کر رہی تھی۔ الجزائر کے بعض مبصرین کی رائے میں ڈائر کے قتل کی بنیادی وجہ اغواء کنندگان کو تاوان کی رقم کی عدم ا دائیگی ہے۔