1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالی مشکلات کی شکار اسلامک اسٹيٹ اب بھی خطرناک، تجزيہ

ايک تازہ رپورٹ ميں انکشاف کيا گيا ہے کہ زير قبضہ علاقوں سے کنٹرول ختم ہونے کے سبب داعش کے مالی وسائل کم ہوتے جا رہے ہيں اور ايسا معلوم ہوتا ہے کہ تنظيم کا ’بزنس ماڈل‘ ناکامی کی سمت بڑھ رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ ميں سرگرم شدت پسند نيٹ ورک اسلامک اسٹيٹ يا داعش کی سن 2014 ميں مجموعی آمدنی 1.6 بلين ڈالر تھی جو گزشتہ برس يعنی سن 2016 ميں صرف 870 ملين رہی۔ يہ انکشاف ہفتے اٹھارہ فروری کو جاری ہونے والی ’انٹرنيشنل سينٹر فار دا اسٹڈی آف ريڈيکلائزيشن اينڈ پوليٹيکل وائلنس‘ کی رپورٹ ميں کيا گيا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق سن 2014 کے وسط ميں داعش نے کئی بينکوں، تيل کے کنوؤں اور اسلحے کے ڈپوؤں پر قبضہ کر رکھا تھا تاہم وقت اور مغربی قوتوں کے حمایت کے ساتھ مقامی افواج اور مسلح جنگجوؤں کی پيش قدمی کے ساتھ ان کے مالی وسائل کافی کم ہو گئے ہيں۔

برطانوی دارالحکومت لندن کے کنگز کالج ميں قائم سينٹر کے ڈائريکٹر پيٹر نيومين کے مطابق اسلامک اسٹيٹ کے حوالے سے بات چيت کے دوران جو غلطی کی جاتی رہی ہے، وہ يہ ہے کہ اسے محض ايک دہشت گرد تنظيم کے طور پر ليا جاتا رہا۔ ان کا کہنا ہے، ’’يہ دہشت گرد تنظيم تو ہے تاہم یہ اور بہت کچھ بھی ہے۔ يہ کئی علاقوں پر قابض ہے۔ اس کا مطلب يہ ہے کہ اس کے ديگر اخرجات بھی ہيں، مثال کے طور پر سڑکوں کی مرمت، اسکولوں ميں اساتذہ کی اجرتيں، عوام کو طبی سہوليات کی فراہمی وغيرہ۔ داعش کو وہ چيزيں بھی کرنی پڑيں، جو القاعدہ نے کبھی نہيں کيں۔‘‘  

اس رپورٹ ميں البتہ يہ تنبيہ بھی کی گئی ہے کہ مالی وسائل کی کمی کا ہر گز يہ مطلب نہيں کہ يہ گروہ اب کم خطرناک ہے۔ نیومین کے مطابق ’’ہم نے پيرس، برسلز اور پھر برلن ميں ہونے والے حملوں ميں ديکھا کہ يہ ايسے حملے نہيں تھے، جن پر بہت زيادہ اخراجات آئے ہوں،‘‘۔

  امريکا اور يورپ ميں ہونے والے چند حاليہ حملوں ميں حملہ آوروں نے کارروائی کے ليے ذاتی ذرائع سے اپنی مالی ضروريات پوری کی تھيں اور ان ميں شام و عراق ميں موجود داعش کی اعلیٰ قيادت کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔

امريکی محکمہ دفاع کے ايک اہلکار کے مطابق اسلامک اسٹيٹ کے پاس اب بھی اتنے وسائل موجود ہيں کہ وہ اپنے اخر اجات چلا سکتی ہے۔ اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اس اہلکار کے مطابق داعش کی مالی صورتحال ايسی نہيں کہ اس کی حملہ کرنے کی صلاحيت متاثر ہوئی ہو۔