1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالی: مذہبی اجتماع میں بھگڈر، 36 افراد ہلاک

مالی میں مسلمانوں کے تہوار عید میلادالنبی کے ایک اجتماع کے موقع پر بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں سے بیشتر خواتین ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ستّر ہے۔

default

مالی حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ حادثہ مالی کے دارالحکومت بماکو میں کھیل کے ایک میدان میں پیر کی شب اس وقت پیش آیا، جب موڈیبو کیٹا اسٹیڈیم میں معروف امام عثمان مدنی عید میلادالنبی کے تہوار کے موقع پر اپنا وعظ ختم کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت متعدد لوگوں نے ان کے قریب آنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں بھگڈر مچی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ واعظ کے وقت خواتین اس امید میں سب سے آگے تھیں کہ وہ امام کو چھو کر برکت حاصل کر سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بیشر افراد لوہے کی ایک باڑ اور ہجوم کے درمیان پھنس کر ہلاک ہوئے۔

اس اسٹیڈیم میں پچیس ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ حادثے کے بعد سول پروٹیکشن سروسز کے اہلکار فوری طور پر وہاں پہنچ گئے، جنہیں ایمرجنسی سروسز کی معاونت بھی حاصل تھی۔ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو بماکو کے ہسپتال میں ہی پہنچایا گیا۔

Karte Grenzgebiet Mali Niger

مالی میں گزشتہ برس بھی ایسے ہی مذہبی اجتماع کے موقع پر بھگدڑ مچنے کے باعث دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

گزشتہ برس مالی کے شمال مشرقی شہر Timbuktu میں عید میلادالنبی کے ایک اجتماع میں ہی بھگدڑ کے نتیجے میں چھبیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حادثہ گزشتہ برس 26 فروری کو 14ویں صدی کی ایک مسجد میں پیش آیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ وہاں آرائش کا کام ہو رہا تھا اور راستہ تنگ ہونے کے باعث لوگ خوفزدہ ہو کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگے تھے۔

خیال رہے کہ ابھی گزشتہ ماہ ہی بھارتی ریاست کیرالہ میں بھی بھگڈر مچنے سے ایک سو سے زائد ہندو زائرین ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حادثہ جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک مذہبی اجتماع کے موقع پر ہی پیش آیا تھا۔ اسی علاقے میں میں ایسا ہی ایک واقعہ 1999ء میں پیش آیا تھا، جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گزشتہ برس نومبر میں کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنھ میں بھی ایک فیسٹیول کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 349 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس