1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’مالی عدم استحکام، لبنان ميں شامی مہاجر خواتين کی کمزوری‘

ايمنسٹی انٹرنيشنل نے خبردار کيا ہے کہ بڑھتی ہوئی سختيوں اور بين الاقوامی مالی امداد ميں کمی کے سبب لبنان ميں موجود شامی مہاجر خواتين کو ہراساں کيے جانے کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہيں۔

لبنان ميں عارضی رہائش گاہوں ميں مقيم تقريباً ايک ملين شامی پناہ گزينوں کی ستر فيصد تعداد ’پاورٹی لائن‘ سے نيچے يعنی گزر بسر کے ليے مقرر کردہ کم از کم ماہانہ رقم سے کم ميں زندگیاں بسر کر رہے ہيں۔ يہ انکشاف انسانی حقوق کے ليے سرگرم بين الاقوامی ادارے ايمنسٹی انٹرنيشنل کی جانب سے منگل دو فروری کے روز جاری کردہ ايک رپورٹ ميں کيا گيا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مالی امداد کی قلت اور سختيوں کے سبب شامی مہاجر خواتين ايسی صورتحال سے دوچار ہيں، جس ميں انہيں جنسی طور پر ہراساں کيے جانے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ايمنسٹی انٹرنيشنل کی طرف سے يہ رپورٹ خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے حوالے سے برطانوی دارالحکومت لندن ميں اسی ہفتے ہونے والی ايک ڈونرز کانفرنس سے قبل جاری کی گئی۔ رپورٹ ميں عالمی برادری پر زور ديا گيا ہے کہ لبنان ميں موجود ايک ملين سے زائد شامی پناہ گزينوں کے ليے مالی امداد اور ان کی ديگر ممالک منتقلی کے مواقع بڑھائے جائيں۔ اس رپورٹ ميں جمعرات کو ہونے والی کانفرنس کے شرکاء پر زور ديا گيا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے آئندہ برس تک کے ليے امداد کی اپيل پوری کريں۔

ايمنسٹی انٹرنيشنل کی رپورٹ کے مطابق خواتين تارکين وطن کو استحصال کا خطرہ ہے۔ کيمپوں ميں موجود متعدد خواتين نے کافی کم اجرت ديے جانے اور مکانات کے کافی زيادہ کرائے کے مطالبات کی شکايات کی ہيں۔ اس کے علاوہ خواتين نے ملازمت کے مقامات پر اپنے سربراہان اور حتیٰ کہ پوليس اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی طور پر ہراساں کيے جانے کا بھی کہا ہے۔

ايمنسٹی انٹرنيشنل کی رپورٹ کے مطابق خواتين تارکين وطن کو استحصال کا خطرہ ہے

ايمنسٹی انٹرنيشنل کی رپورٹ کے مطابق خواتين تارکين وطن کو استحصال کا خطرہ ہے

ايمنسٹی انٹرنيشنل سے منسلک ايک محققہ کيتھرن رامسے نے کا کہنا ہے، ’’خواہ انہيں ملازمت کی کم اجرت دی جا رہی ہو يا پھر وہ انتہائی خستہ حال مکانات ميں رہ رہی ہوں، مالی عدم استحکام خواتين کے ليے متعدد مسائل کا سبب بنتا ہے اور طاقتور پوزيشنوں کے حامل افراد ان کا فائدہ اٹھا سکتے ہيں۔‘‘

دريں اثناء لبنان ميں متعارف کرائی جانے والی سختيوں کے نتيجے ميں کئی مہاجرين رہائش کے اجازت نامے ميں توسيع نہيں کرا سکے، جس سبب ايسے پناہ گزينوں کی حيثيت غير قانونی ہے۔ اسی وجہ سے متاثرہ افراد زيادتيوں کے بارے ميں رپورٹ درج کرانے سے بھی کتراتے ہيں۔

يہ امر اہم ہے کہ لبنان کی چار ملين افراد پر مشتمل آبادی کا ايک چوتھائی حصہ شامی پناہ گزينوں پر مشتمل ہے۔ يہی وجہ ہے کہ حکام نے گزشتہ برس تارکين وطن کے ليے سختياں متعارف کرانا شروع کر دی تھيں۔ انسانی حقوق کے ليے سرگرم بين الاقوامی ادارے ايمنسٹی انٹرنيشنل نے اپنی رپورٹ ميں يہ تسليم کيا ہے کہ لبنان مہاجرين کے بحران کے سبب دباؤ کا شکار ہے تاہم حکام پر زور ديا ہے کہ وہ سختيوں ميں نرمی لائيں۔