1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالی حملہ، 12 ہلاک، یرغمالی رہا کرا لیے گئے

افریقی ملک مالی کے وسطی حصے میں ایک ہوٹل میں لوگوں کو یرغمال بنائے جانے کا ڈرامہ آج ہفتے کی صبح اس وقت اختتام کو پہنچا جب ملکی فوج نے دھاوا بول کر دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاکتوں کی کُل تعداد 12 بتائی گئی ہے۔

مالی کے فوجی ذرائع کے مطابق رات گئے مالی کے شہر سیوارے کے ہوٹل ببلوس پر مسلح افراد کے حملے اور محاصرے کے بعد وہاں سے پانچ غیر ملکی باشندوں اور دیگر کئی یرغمالیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔ افریقی ملک مالی کی سکیورٹی فورسز نے کئی گھنٹوں کی کارروائی کے بعد یہ کامیابی حاصل کی۔ اس دوران فوجیوں سمیت کم از کم بارہ افراد ہلاک ہوئے۔

مالی کے ایک فوجی افسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہوئے۔‘‘ اس افسر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پانچ دہشت گرد، پانچ فوجی جبکہ دو غیر ملکی ہیں، جن کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس افسر کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک غیر ملکی کی لاش گزشتہ روز دہشت گردوں کے حملے کے آغاز سے ہوٹل کے سامنے پڑی تھی۔

اے ایف پی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہوٹل سے بازیاب کرائے جانے والوں میں پانچ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ بازیاب کروائے جانے والے غیر ملکیوں کی قومیت کے بارےمیں اطلاع ہے کہ ان میں دو جنوبی افریقی، ایک روسی اور ایک یوکرائنی ہے۔ سیوارے میں حملے کا نشانہ ہوٹل بِبلوس اقوام متحدہ کے امن مشن اسٹاف کی پسندیدہ ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔

حملہ آوروں نے مالی کے شہر سیوارے میں واقع ہوٹل ببلوس پر جمعہ کے روز قبضہ کر لیا تھا

حملہ آوروں نے مالی کے شہر سیوارے میں واقع ہوٹل ببلوس پر جمعہ کے روز قبضہ کر لیا تھا

اقوام متحدہ کے امن مشن MINUSMA کی طرف سے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ بین الاقوامی امن مشن کا ایک اہلکار اس حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔‘‘

مالی حکومت کے مطابق مسلح حملہ آور جمعہ سات اگست کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے ہوٹے میں داخل ہوئے۔ ان میں سے کم از کم ایک حملہ آور نے خودکش بیلٹ باندھ رکھی تھی۔ مالی کی فورسز نے ہوٹل کا محاصرہ کر لیا تاہم ہوٹل کے اندر یرغمالیوں کی موجودگی کے باعث ان کو آپریشن میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

جمعہ کے روز سارا دان فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا اور ملکی فوج نے ہفتے کی صبح حملہ آوروں کا یہ قبضہ ختم کرا لیا۔ ذرائع کے مطابق اس آپریشن میں غیر ملکی اسپیشل فورسز نے بھی حصہ لیا۔ اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق حملے کا ابتدائی ہدف مالی کی فوج کا ایک مقام تھا۔