1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالی بحران ہے یا عفریت کوئی: سہماسہما سا پھرے ہر کوئی

عالمی مالیاتی بحران کے بعد ترقی یافتہ ملکوں کی جانب سے مالی منڈیوں میں اربوں کھربوں ڈالر ڈالنے سے بھی کمزور مالی صورت حال کو سہارا نہیں مل پا رہا۔ آزاد مارکیٹ کا سفینہ اب کدھر جائے گا؟

default

جرمن سٹاک مارکیٹ واقع فرینکفرٹ میں حصص کی گرتی قیمتوں کا گراف

عالمی مالیاتی بحران کی ڈور بہت اُلجھ گئی ہے۔ حکومتی کاوشوں اور ماہرین کی کوششوں کے باوجود سرا پکڑائی نہیں دے رہا۔ ایسی صورت میں کسادبازاری کے گہرے سیاہ بادل عالمی اقتصادیات پر پھیلتے جا رہے ہیں۔ آزاد مارکیٹ کے غبارے سے ہوا تقریباً نکل چکی ہے۔ مالی منڈیوں میں حکومتی کردار ادا کرنے کے لئے ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ ترقی پذیر ملکوں کی حکومتیں بھی سرگرم ہیں۔ کمزور مالیاتی اداروں کو کھڑا کرنے کے لئے اربوں کھربوں ڈالر ڈالنے کا عمل شروع ہے مگر یہ سب بے اثر ثابت ہو رہا ہے۔

Jahresrückblick 2008 International September USA Finanzkrise New York Börse Wall Street Flagge

امریکی سٹامک مارکیٹ وال سٹریٹ

امریکہ سمیت ساری دنیا میں جمعہ کے دِن سٹاک مارکیٹوں میں آندھی چلنے کی کیفیت محسوس کی گئی۔ عالمی مالی منڈیوں میں حصص کی قیمتوں میں جو کمی واقع ہوئی ہے وہ اربوں ڈالر کے نقصان کا باعث ہے اور اِس کے اثرات سے کئی ادارے جلد سنبھلنے کی صورت میں نہیں ہوں گے۔

Verzweifelter Börsenmakler an der Wall Street

امریکی بازار حصص وال سٹریٹ میں مندی کے دوران ، ایک تاجر کی صورت حال

امریکی مالی منڈی وال سٹریٹ گزشتہ ساڑھے پانچ سالوں میں سب سے کم مقام پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی سٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کے روز آغاز سے ہی مندی کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ وال سٹریٹ کے ساتھ ڈاؤ جونز اور ناسڈک میں بھی مندی غالب رہیے۔

یورپی سٹاک مارکیٹ بھی ایسی کیفیت سے دوچار تھیں۔ لندن اور فرینکفرٹ میں حصص کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی۔ ایسی ہی صورت حال ایشیائی سٹاک مارکیٹوں تھی۔ جاپان اور جنوبی کوریا کی سٹاک مارکیٹوں میں ہو کا عالم تھا۔ جاپان کی الیکٹرانک مصنوعات بنانے والے ادارے سونی نے اپنے ممکنہ سالانہ منافع میں پچاس فی صد اور جنوبی کوریا کی سام سینگ کمپنی نے اپنے ممکنہ سالانہ منافع میں چوالیس فیصد کی کمی کا اعلان کردیا ہے۔ جنوبی کوریا کے سیئول سٹاک مارکیٹ کی صورت حال یہ ہے کہ وہ رواں سال کے دوران اپنی آدھی قیمت کھو چکا ہے۔ دوسیر سٹاک مارکیٹوں ہانگ کانگ، سنگاپور، ممبئی اور سڈنی کے بازار حصص کا ہے، وہاں پر سرمایہ کار مندی سے گبھرائے ہوئے ہیں کیونکہ اُن کے سرمائے کا حجم سکڑتا جا رہا ہے۔

Symbolbild Japan Tokio Markt Börsen Index Börsenverlust

ٹوکیو سٹاک مارکیٹ، حصص کی گرتی قیمتوں کا گراف

عالمی سطح پر مالی بحران سے ماسکو کے بازار حصص بھی انتہائی شدت سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ ماسکو کے دونوں بازار حصص میں لین دین اٹھائیس اکتوبر تک معطل کردیا گیا ہے۔ جمعہ کے روز حصص کی قیمتوں میں سولہ فی صد کمی واقع ہوئی۔

Russland Finanzkrise Börse in Moskau Kurse

ماسکو سٹاک مارکیٹ میں گرتی قیمتوں کا گراف دیکھتے ہوئے ایک تاجر

لاطینی امریکہ میں بھی کیفیت کچھ اور نہیں ہے۔ برازیل اور میکسیکو کے مرکزی بینکوں کی مداخلت کے باوجود وہاں کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے۔ برازیل کے مرکزی سٹاک مارکیٹ واقع ساو پاؤلو میں مندی کے باعث حصص کی مجموعی قیمتوں میں تقریباً سات فی صد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اِسی طرح میکسیکو، ارجنٹائن، چلی اور پیرو میں بھی مندی غالب تھی۔ پیرو میں لین دین مندی کے باعث معطل کردیا گیا۔

Broker Börse Sao Paolo

برازیل کی مرکزی سٹاک مارکیٹ ساو پاؤلو میں مندی پر کارباری حضرات سر پکڑے ہوئے۔

امریکہ میں اِس سال مالی بحران کے دوران ڈوبنے والے بینکوں کی تعداد سولہ ہو گئی ہے۔ امریکی حکام نے ایک علاقائی بینک الفا بینک کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ امریکی ریاست جورجیا میں قائم الفا بینک اینڈ ٹرسٹ کے دفاتر پر تالہ ڈال دیا گیا ہے۔

OPEC Aussenansicht des Hauptquartiers der Organisation Erdöl exportierender Länder

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک کا صدر دفتر واقک وی آنا، آسٹریا

تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان سے بھی تیل کی گرتی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ نیویارک میں خام تیل کے فی بیرل کی قیمت چونسٹھ ڈالر اور لندن میں باسٹھ ڈالر سے کچھ اوپر ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر خام تیل کے بیرل کی قیمتوں میں کمی رجحان جاری رہا تو فی بیرل کی قیمت ساٹھ ڈالر ہو سکتی ہے۔ وینز ویلا نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ اوپیک کو خام تیل کی قیمتوں کو ایک مخصوص مالیت میں گردش کرنے کا فارمولا پیش کرنا چاہئے تاکہ خام تیل کی قیمتیں انتہائی کم نہ ہوں۔

یورپی ملکوں میں کساد بازاری کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ برطانیہ میں اقتصادی ترقی کی رفتار جولائی، اگست اور ستمبر کی سہ ماہی میں گزشتہ سولہ سالوں میں پہلی بار سکڑتی ہوئی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اِس بات کا عندیہ ہے کہ برطانوی معیشت کسادبازاری کی دہلیز پر پہنچ گئی ہے۔ آئس لینڈ اور آئر لینڈ کے بعد برطانوی اقتصادی صورت حال اِس بات کا پتہ دیتی ہے کہ آنے والے دِنوں میں اور یورپی ملک ایسا اعلان کر سکتے ہیں۔

Audios and videos on the topic