1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

مالیاتی منڈیوں کی نگرانی، امریکی سینیٹ میں قانون منظور

امریکی سینیٹ نے نیویارک کی وال سٹریٹ پر قائم نیویارک سٹاک ایکسچیج نامی دنیا کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ میں جامع اصلاحات کے ایک وسیع تر پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔

default

دنیا کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ میں جامع اصلاحات کے ایک وسیع تر پروگرام کی منظوری کے بعد عالمی معیشت میں 1930ءکے عشرے کے بعد پیدا ہونے والے سب سے بڑے، اور حالیہ بین الاقوامی اقتصادی بحران کے پس منظر میں امریکہ میں مالیاتی قوانین میں بہت بڑی ترامیم سے متعلق، وہ سیاسی رسہ کشی بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے، جو کئی ماہ تک جاری رہی۔

عالمی معیشت کے لئے مجموعی طور پر ہزاروں بلین ڈالر کے نقصانات کا باعث بننے والا گزشتہ بین الاقوامی اقتصادی بحران 2007ء میں شروع ہو کر 2009ءتک اپنی شدید ترین حالت میں تھا۔ اس بحران سے نکلنے کے لئے بہت سے ملکوں میں حکومتوں نے جو مالیاتی استحکامی اقدامات کئے، ان کے لئے رقوم زیادہ تر عوامی شعبے کے وسائل سے مہیا کی گئی تھیں۔ اسی حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما نے ملکی معیشت کے لئے جس استحکامی پیکیج کا اعلان کیا تھا، اس کے لئے بھی مالی وسائل ٹیکس دہندگان کی اداکردہ رقوم ہی سے مہیا کئے گئے تھے۔

اس تناظر میں یہ بات قابل فہم ہے کہ صدر اوباما نے شروع سے ہی اس امر پر زور دیا تھا کہ مالیاتی منڈیوں اور بینکوں کی کارکردگی پر کڑی نگاہ رکھنے کے لئے مروجہ قوانین کو مزید سخت بنایا جانا چاہیے۔

Obama / USA / Weißes Haus

امریکی صدر باراک اوباما

لہٰذا واشنگٹن میں امریکی سینیٹ نے جمعرات کی رات وال سٹریٹ کی کارکردگی کے سلسلے میں جن نئے قوانین کی منظوری دے دی، انہیں سینیٹ کے 59 ارکان کی تائید حاصل ہوئی جبکہ 39 ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔ اس قانونی بل کی منظوری مالیاتی اداروں اور منڈیوں کی کڑی نگرانی کے حامی باراک اوباما کی ایک ایسی فتح ہے، جو غالبا ان کی آخری کامیابی نہیں ہو گی۔

اس لئے کہ اِس نئے منظورہ شدہ قانونی بل کو اب اُس قانونی مسودے میں ضم کر دیا جائے گا، جو مالیاتی اداروں کی مزید بہتر نگرانی ہی کے سلسلے میں گزشتہ برس دسمبر میں واشنگٹن میں امریکی ایوان نمائندگان نے منظور کیا تھا۔

صدر اوباما ایک مکمل قانون کی صورت میں انہی دونوں مسودوں کے انضمام کے بعد سامنے آنے والی دستاویز پر دستخط کریں گے تو اس نئے قانون کا نفاذ ہو سکے گا۔

سیاسی اور مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ دسمبر میں ایوان نمائندگان نے جن مالیاتی قوانین کی منظوری دی تھی، ان میں ترامیم اور ان کی امریکی سینیٹ کی طرف سے منظوری میں قریب پانچ ماہ لگے۔ لیکن اب یہ باقی کام شاید اگلے مہینے ہی ہو جائے گا کہ صدر اوباما اس قانون کے حتمی مسودے پر دستخط کرتے ہوئے اس کے نفاذ کی راہ ہموار کر دیں گے۔

رپورٹ­ مقبول ملک

ادارت عاطف بلوچ

DW.COM